اسلام آباد (کرائم رپورٹر)مقدمہ درج کروانے کی آڑ میں افسران کے نام پر رشوت طلب کرنے کے الزام میں تھانہ کورال کے ہیڈ کانسٹیبل تنویر حوالدار کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے ذرائع کے مطابق الزام ثابت ہونے پر ایس ایس پی علی رضا قاضی نے ہیڈ کانسٹیبل تنویر حوالدار کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے اسے ملازمت سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کیے۔ تاہم حیران کن طور پر اس معاملے میں متعلقہ ایس ایچ او کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ آ سکی، جس پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ہیڈ کانسٹیبل تنویر کی ایک مبینہ آڈیو کال بھی منظرِ عام پر آ چکی ہے، جس میں وہ ایس ایچ او اور دیگر افسران کے لیے پیسے مانگتا ہوا سنا جا سکتا ہے۔ آڈیو کے مطابق مقدمہ درج کرنے کے لیے شہری سے دو لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ تھانہ کورال میں گاڑی سے متعلق ایک معاملے پر بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا، جس کے باعث متاثرہ شہری مایوس ہو کر ایس ایس پی آفس پہنچا اور بعد ازاں عدالت سے رجوع کرنا پڑا مزید انکشاف ہوا ہے کہ مقدمہ درج نہ کرنے کے لیے مبینہ طور پر دو ڈی ایس پیز اور ایک ایس ایچ او کی سفارش شامل تھی، تاہم اس حوالے سے تاحال کسی افسر کے خلاف عملی کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔

