صحت کا شعبہ قومی سلامتی کا ضامن، ون ہیلتھ اپروچ سے معیشت اور دفاع کو مضبوط بنائیں گے. وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے “ون ہیلتھ اپروچ” کو پاکستان کے محفوظ مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کا شعبہ اب محض بیماریوں کے علاج تک محدود نہیں رہا بلکہ بدلتے عالمی تناظر میں یہ “قومی سلامتی” کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے “اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس (اے ایم آر)اور ون ہیلتھ اپروچ” کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا وفاقی وزیر نے ایک مثبت اور فکر انگیز نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسان آخری سانس تک سیکھنے کے عمل سے گزرتا ہے اور آج ہمیں یہ سیکھنا ہے کہ ایک مضبوط ہیلتھ کیئر سسٹم ہی مستحکم معیشت اور ناقابلِ تسخیر دفاع کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے تجربات نے دنیا کو سکھایا کہ امریکا، چین اور انڈیا جیسی بڑی طاقتیں بھی بیماریوں کے غیر معمولی بوجھ کے سامنے بے بس ہو سکتی ہیں اس لیے ہمیں اپنی تیاریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ مصطفیٰ کمال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ہم نے اپنے ہیلتھ سسٹم کو درست کر لیا تو یہ پاکستان کی معیشت اور دفاع سمیت پورے ریاستی نظام کو تحفظ فراہم کرے گا۔

چیئرمین ٹیکنیکل ہیلتھ گروپ اور وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی ڈاکٹر شہزاد علی خان نے ون ہیلتھ پروگرام کی کامیابیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خوش آئند پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ون ہیلتھ پروگرام کا دائرہ کار ملک کی تمام بڑی جامعات تک پھیلا دیا ہے تاکہ قوم کے معماروں یعنی “نئی نسل” کو اس اہم مشن کا ہراول دستہ بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر شہزاد نے کہا کہ ملک بھر سے نامور ماہرین صحت کا ہمارے قافلے میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم درست سمت گامزن ہیں اور اجتماعی کوششوں سے اس چیلنج پر قابو پا لیں گے نیشنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر طارق محمود علی نے شرکا کو مسئلے کی تکنیکی نوعیت اور اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اینٹی بائیوٹکس کا غیر ضروری استعمال روک کر ہم اپنی معیشت اور صحت عامہ کو بڑا سہارا دے سکتے ہیں۔ کانسیپٹ نوٹ کے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں فی الوقت 60 فیصد ادویات اینٹی بائیوٹکس پر مشتمل ہوتی ہیں جو عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم آر کے تدارک سے ہم نہ صرف جی ڈی پی کے 1 فیصد کے برابر ہونے والے معاشی نقصان کو بچا سکتے ہیں بلکہ 5 سال سے کم عمر بچوں کی قیمتی جانوں کا تحفظ بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔ ماہرین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ون ہیلتھ کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر اس خاموش عالمی بحران کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔