راولپنڈی (کرائم رپورٹر)نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پاکستان کو محفوظ ڈیجیٹل ملک بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سال 2025 کے دوران سائبر جرائم اور ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں 2200 مقدمات درج کیے گئے، 2900 سے زائد ملزمان گرفتار ہوئے، 774 سے زائد کیسز کے چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے جبکہ مالی فراڈ کی مد میں 461 ملین روپے کی ریکوری ممکن بنائی گئی این سی سی آئی اے کے ترجمان/آفیسر تعلقات عامہ سید نجیب الحسن نے منگل کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا مقصد صرف تحقیقات نہیں بلکہ عوام کا ڈیجیٹل نظام پر اعتماد بحال کرنا اور ایک محفوظ ڈیجیٹل ایکو سسٹم تشکیل دینا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ ادارے کا ویژن بالکل واضح ہے کہ ہر پاکستانی بغیر خوف و ہراس انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکے۔ اس مقصد کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے جس کے تحت سائبر جرائم میں ملوث عناصر کی نشاندہی، گرفتاری، عدالتی کارروائی اور انہیں سزائیں دلوانا یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ آن لائن فراڈ اور سائبر حملوں میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ مالی فراڈ کے خلاف منظم حکمت عملی کے تحت 46 ہزار سے زائد جعلی بینک اکاؤنٹس بلاک کیے گئے تاکہ فراڈ کی رقم ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل نہ ہو سکے۔ اس اقدام سے ڈیجیٹل مالیاتی جرائم کی روک تھام میں خاطر خواہ بہتری آئی۔آفیسر تعلقات عامہ نے بتایا کہ آن لائن چائلڈ ابیوز کے خلاف بھی 2025 میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں جس دوران دوران 35 ملزمان گرفتار کیے گئے جبکہ پانچ بین الاقوامی اور مقامی بڑے نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کیا گیا انہوں نے بتایا کہ سال 2025 میں عوام کو سب سے زیادہ نقصان مالیاتی فراڈ، جعلی کالز اور او ٹی پی اسکیمز کے ذریعے پہنچایا گیا۔ نوسرباز خود کو بینک افسر، کوریئر سروس کے نمائندے یا کسی ادارے کا اہلکار ظاہر کر کے شہریوں سے حساس معلومات حاصل کرتے اور بعد ازاں ان کے بینک، جیز کیش اور ایزی پیسہ اکاؤنٹس خالی کر دیتے تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ غیر قانونی لون ایپس کے ذریعے شہریوں کو بلیک میل کرنے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے تعاون سے سینکڑوں غیر قانونی ایپس بند کروائی گئیں اور اس نیٹ ورک میں ملوث گروہوں کو گرفتار کیا گیا، جس کے نتیجے میں مالی فراڈ اور بلیک میلنگ میں نمایاں کمی ہوئی انہوں نے مزید بتایا کہ آن لائن گیمنگ کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کر کے رقم ہتھیانے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ہزاروں غیر قانونی ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا، تاکہ نوجوان نسل کو ڈیجیٹل جرائم سے محفوظ رکھا جا سکے۔

