اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان میں عالمی مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کے جاری پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے پاکستان اور چین کے درمیان باضابطہ مذاکرات رواں ماہ (مارچ 2026ء) سے شروع ہو رہے ہیں۔چائنا انٹرنیشنل انٹیلیکٹیک گروپ کمپنی لمیٹڈ (سی آئی آئی سی گروپ) کی جانب سے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن آف پاکستان (نیوٹیک) کی چیئرپرسن گلمینہ بلال احمد کو ارسال کردہ تعریفی خط کے مطابق چیئرپرسن کی بصیرت افروز قیادت نے چین اور پاکستان کے درمیان مہارتوں کی ترقی کے شعبے میں تعاون کو نئی جہت دی ہے۔خط میں ان کی شاندار خدمات، موثر تعاون اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کے اہداف کامیابی سے پورے کرنے کی تعریف کی گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق ان کی سٹریٹجک رہنمائی نے کثیر الجہتی شراکت داری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا اور مشترکہ سکلز سرٹیفکیشن فریم ورک کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔اسی باہمی تعاون کے نتیجے میں پاکستان میں چینی ویلڈنگ کی بین الاقوامی سرٹیفکیشن متعارف کرائی گئی جسے ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پروگرام کے پائلٹ مرحلے کے دوران اکتوبر سے دسمبر 2025ء تک 25 ویلڈرز کو جدید تقاضوں کے مطابق خصوصی تربیت دی گئی۔ یہ ویلڈرز اس وقت پاکستان میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں جس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے بلکہ عالمی معیار کی مہارتوں کا فروغ بھی ممکن ہوا۔
خط کے مطابق تکنیکی تربیت کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی مشترکہ کاوشیں دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں۔اسی خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مارچ 2026ء سے پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔ آئندہ مرحلے میں نہ صرف ویلڈنگ بلکہ دیگر شعبوں میں بھی بین الاقوامی ٹریڈ سرٹیفکیشنز پاکستان میں متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کر کے انہیں ملکی و غیر ملکی صنعتوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

