اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون سیزن کی پیشگی تیاری، موسمیاتی تغیرات اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے، اس لیے موسمیاتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور جامع تعاون ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) رواں ہفتے تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کریں تاکہ مون سون سے قبل تمام حفاظتی اور انتظامی اقدامات کا جائزہ لے کر تیاریاں مکمل کی جا سکیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی نگرانی میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ وفاقی وزارتوں پر مشتمل ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کی جائے گی، جو صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر عملی تعاون کو یقینی بنائے گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کمیٹی ہفتہ وار اجلاس منعقد کرے، وفاقی وزیر خزانہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی فنڈ کی پیشگی تیاری مکمل کریں، انہوں نے کہا کہ غیر ملکی مالی معاونت سے جاری منصوبوں کو قومی اور مقامی اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں قومی آبی تحفظ اور سلامتی سے متعلق منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے 330 ارب روپے کی اضافی رقم مختص کی ہے، شہباز شریف نے ہدایت کی کہ گزشتہ تجربات کی روشنی میں مون سون کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع روڈ میپ تیار کیا جائے، جبکہ صوبائی حکومتیں خطرے سے دوچار اضلاع میں دریاؤں کی گزرگاہوں، سیلابی راستوں پر تجاوزات کے خاتمے اور دیگر رکاوٹوں کو پیشگی دور کریں۔
وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ مون سون کے دوران اپنی مکمل ادارہ جاتی اور تکنیکی استعداد عوام کی سہولت اور تحفظ کے لیے بروئے کار لائی جائے،اجلاس کو چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں رواں سال شدید گرمی کی لہر اور غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیوں کے امکانات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بھی جولائی کے دوران معمول سے زیادہ بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مجوزہ حکمت عملی کے تحت تمام ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں، اجلاس میں وفاقی وزرا، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیئرمین واپڈا، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

