ورلڈ بینک کی سفارش، این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کا فارمولا ازسرنو مرتب کیا جائے

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) ورلڈ بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت وفاقی وسائل کی صوبوں میں تقسیم کے موجودہ فارمولے پر نظرثانی کی جائے اور وسائل کی تقسیم صرف آبادی کے بجائے صوبوں کی اخراجاتی ضروریات اور ممکنہ آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بھی مدنظر رکھ کر کی جائے۔

ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی محصولات کا 57.5 فیصد حصہ صوبوں کو منتقل کیا جا رہا ہے، تاہم صوبائی حکومتوں کے اخراجات کا تقریباً 80 فیصد حصہ تنخواہوں، پنشن اور دیگر انتظامی امور پر خرچ ہو رہا ہے، جبکہ عوامی خدمات کے معیار میں خاطر خواہ بہتری اور غربت میں نمایاں کمی کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئین کی 18ویں ترمیم کے بعد بھی وفاقی حکومت متعدد سماجی خدمات اور معاشی شعبوں میں سرگرم عمل ہے، جس کے باعث اختیارات میں تداخل، وسائل کے ضیاع اور جوابدہی کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ورلڈ بینک نے اپنی سفارشات میں مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو نہ تو واضح انتظامی اختیارات دیے گئے ہیں اور نہ ہی انہیں مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے مناسب مالی وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وسائل کی منصفانہ اور مؤثر تقسیم، مالی نظم و ضبط، بہتر طرزِ حکمرانی اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے عوامی خدمات کی فراہمی اور معاشی ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔