ڈائریکٹر ، پروٹیکٹر آفس میں مبینہ کرپشن ، ڈائریکٹر فرخ جمال گرفتار، گھر سے ایک کروڑ اور دفتر سے 7 لاکھ روپے برآمد . ایف آئی اے

پشاور (بیورو رپورٹ) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل پشاور کے ڈپٹی ڈائریکٹر رانا شاہد حبیب نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں سے مبینہ طور پر بھاری رقوم وصول کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا ہے، جس میں پروٹیکٹر آفس کے افسران اور ایجنٹ مافیا ملوث تھے۔

رانا شاہد حبیب نے بتایا کہ انہیں اعلیٰ حکام کی جانب سے اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا حکم ملا تھا، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے پروٹیکٹر آفس کے ڈائریکٹر فرخ جمال کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ ریڈ کے دوران دفتر سے 7 لاکھ روپے برآمد ہوئے، جبکہ دورانِ تفتیش ملزم کی نشاندہی پر اس کے گھر سے ایک کروڑ روپے نقد بھی برآمد کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف ممالک کے ویزوں اور پروٹیکٹر سے متعلق معاملات کے لیے الگ الگ نرخ مقرر تھے اور ایجنٹ مافیا کے ذریعے شہریوں سے بھاری رقوم وصول کی جاتی تھیں۔ ان کے مطابق یہ گروہ روزانہ تقریباً 15 لاکھ روپے تک کماتا تھا، ڈپٹی ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ ملزم فرخ جمال کے ساتھ اس کا ماتحت عملہ بھی ملوث ہے۔ جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم کی نشاندہی پر سسٹم انچارج عمران کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

رانا شاہد حبیب کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس نیٹ ورک کے روابط وفاقی وزارت تک موجود بعض افراد سے ہونے کے شواہد ملے ہیں، جن کی بنیاد پر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے ڈی جی کی واضح ہدایات ہیں کہ کرپشن میں ملوث ہر شخص کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

ذرائع کے مطابق فرخ جمال اس سے قبل راولپنڈی پروٹیکٹر آفس میں بھی تعینات رہے، جہاں مبینہ طور پر پروٹیکٹر آفس کے باہر سرگرم ایجنٹوں کے ذریعے بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں سے 30 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے تھے اور بغیر رشوت کے کام ہونا انتہائی مشکل سمجھا جاتا تھا۔ متعدد شکایات کے بعد ان کا تبادلہ پشاور کر دیا گیا، تاہم الزام ہے کہ وہاں بھی یہی مبینہ طریقہ کار جاری رکھا گیا ، ایف آئی اے کے مطابق کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید اہم اور سنسنی خیز انکشافات اور گرفتاریاں سامنے آنے کا امکان ہے۔