نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نیشنل اسٹریٹجک ڈائیلاگ، پاکستان پی پی پی مانیٹر کا بھی آغاز

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، وزارت نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) کے اشتراک سے نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے موضوع پر نیشنل اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، ایشیائی ترقیاتی بینک کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگ منگ یانگ، وفاقی و صوبائی مالیاتی اداروں کے نمائندگان اور سرمایہ کاری برادری سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی ، اس موقع پر حکومت پاکستان نے سرکاری و نجی شراکت داری اور نجکاری کے ذریعے نجی سرمائے کو متحرک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا کہ حکومت نے معاشی ترقی کی باگ ڈور بتدریج نجی شعبے کو منتقل کرنا شروع کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مستقبل کی انفراسٹرکچر اور ترقیاتی ضروریات صرف حکومتی اخراجات کے ذریعے پوری نہیں کی جاسکتیں، اس لیے نجی شعبے کو انفراسٹرکچر اور اقتصادی اثاثوں کی فنانسنگ، تعمیر اور انتظام میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے اگلے مرحلے کی قیادت نجی شعبے کو کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجکاری کے ذریعے سرمایہ کاری لانے، کارکردگی بہتر بنانے اور نجی شعبے کی شمولیت کے لیے مزید گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے۔

تقریب کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان پی پی پی مانیٹر کا بھی آغاز کیا گیا۔ اے ڈی بی کے نائب صدر ینگ منگ یانگ نے پاکستان میں نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری مضبوط بنانے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نجی شعبے کی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعاون جاری رکھے گا۔

ینگ منگ یانگ نے پاکستان پی پی پی مانیٹر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم پاکستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں اور سرمایہ کاری سے متعلق معلومات کو یکجا کرے گا، جس سے سرمایہ کاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو دستیاب مواقع کے بارے میں واضح معلومات حاصل ہوسکیں گی۔

پاکستان پی پی پی مانیٹر کے مطابق 1990 سے اب تک ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے 154 منصوبے مکمل کیے جاچکے ہیں، جن میں تقریباً 36 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ، اعداد و شمار کے مطابق موجودہ وفاقی پی پی پی پائپ لائن میں 38 منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی تخمینہ لاگت تقریباً 6.5 ارب امریکی ڈالر ہے ، ان منصوبوں میں سڑکوں، ریلوے، ہوا بازی، صحت اور صنعتی انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔

دوسری جانب حکومت پاکستان نجکاری پروگرام کے تحت 27 ٹرانزیکشنز پر بھی کام آگے بڑھا رہی ہے، جن میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، بڑے ہوائی اڈے، انشورنس کمپنیاں اور خصوصی بینک شامل ہیں۔

شرکاء کے مطابق نیشنل اسٹریٹجک ڈائیلاگ اور پاکستان پی پی پی مانیٹر کا آغاز ملک میں نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے، معاشی کارکردگی بہتر بنانے اور مستقبل کی انفراسٹرکچر و ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔