ایف بی آر افسران کے گرد گھیرا تنگ سب کا ہو گا احتساب سنیٹر طلحہ محمود کنو ینر مقرر

اسلام آباد (احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں شفافیت، احتساب اور اصلاحات کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے تین رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو ایف بی آر افسران کے اثاثوں، دوہری شہریت، بیرونِ ملک مستقل رہائش اور ادارے کی گورننس کا جامع جائزہ لے گی۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ ذیلی کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں منظور کی گئی ، کمیٹی کی سربراہی سینیٹر محمد طلحہ محمود کو بطور کنوینر سونپی گئی ہے، جبکہ سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان اور سینیٹر منظور احمد کاکڑ اس کے اراکین ہوں گے ،

نوٹیفکیشن کے مطابق ذیلی کمیٹی کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں، کمیٹی ایف بی آر افسران کے ایسے اثاثوں کی چھان بین کرے گی جو ان کی ظاہر کردہ آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس مقصد کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ذریعے تحقیقات اور احتساب کا عمل بھی عمل میں لایا جائے گا تاکہ آمدن سے زائد، نامعلوم یا بے نامی اثاثوں کی مکمل جانچ ممکن بنائی جا سکے۔

ذیلی کمیٹی ایف بی آر کے ان افسران کا بھی جائزہ لے گی جو دوہری شہریت رکھتے ہیں یا بیرونِ ملک مستقل رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے مکمل تفصیلات طلب کی جائیں گی اور متعلقہ معاملات کا قانونی و انتظامی پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے گا ، کمیٹی کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ وہ کاروباری برادری، چیمبرز آف کامرس اور صنعتکاروں سے مشاورت کرے تاکہ پاکستان سے صنعتوں اور کمپنیوں کی منتقلی کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ کمیٹی بھاری ٹیکسوں، پالیسیوں کے عدم استحکام اور ایف بی آر کی مبینہ سخت نافذ العمل پالیسیوں کے کاروباری ماحول پر اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لے گی۔

اس کے علاوہ ذیلی کمیٹی ایف بی آر کے نظامِ حکمرانی، احتسابی ڈھانچے اور پالیسی سازی میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرے گی اور ادارے میں شفافیت، مؤثر گورننس اور جدید اصلاحات کے لیے جامع سفارشات مرتب کرے گی ، نوٹیفکیشن کے مطابق ذیلی کمیٹی اپنی پہلی میٹنگ کے 60 روز کے اندر یا نوٹیفکیشن کے اجرا کے 15 روز کے اندر، جو بھی مدت پہلے مکمل ہو، اپنی رپورٹ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو پیش کرنے کی پابند ہوگی۔

سینیٹ سیکریٹریٹ نے وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ذیلی کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنائیں تاکہ مقررہ مدت میں تحقیقات اور جائزہ کا عمل مکمل کیا جا سکے۔