سینٹر طلحہ محمود کا دلاور خان کے خلاف چیئرمین سینٹ کو مراسلہ نوٹس لینے کا مطالبہ

اسلام آباد (احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) سینیٹر طلحہ محمود نے داخلہ سے متعلق خصوصی کمیٹی کے معاملات پر چیئرمین سینیٹ کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے سینیٹر دلاور خان کی جانب سے مبینہ طور پر غیر مجاز شرکت اور غیر پارلیمانی رویے پر قواعد کے مطابق نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ، مراسلے میں سینیٹر طلحہ محمود نے مؤقف اختیار کیا کہ سینیٹر دلاور خان نے 7 اگست کو داخلہ کی قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں غیر مجاز طور پر شرکت کی۔

ان کے مطابق اجلاس کے دوران دلاور خان کی جانب سے غیر پارلیمانی رویہ اختیار کیا گیا ، سینیٹر طلحہ محمود نے الزام عائد کیا کہ سینیٹر دلاور خان نے دورانِ اجلاس انہیں بازو سے پکڑا اور ان کے بارے میں انتہائی غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے، مراسلے کے مطابق سینیٹر دلاور خان کی جانب سے ایف بی آر افسران کے خلاف بات کرنے کے لیے سینیٹر طلحہ محمود پر بار بار دباؤ ڈالا گیا۔

طلحہ محمود کا کہنا ہے کہ چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو تقی قریشی اور ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو فہیم رشید کے خلاف بات کرنے کے لیے بھی ان پر دباؤ ڈالا گیا ، سینیٹر طلحہ محمود نے واضح کیا کہ وہ ایف بی آر کی مجموعی کارکردگی اور پالیسیوں پر پارلیمنٹ میں تنقید کرتے ہیں، تاہم ان کی معلومات کے مطابق مذکورہ افسران کسی معاملے میں ملوث نہیں، اس لیے وہ ان کے خلاف الزام عائد نہیں کر سکتے۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سینیٹر دلاور خان کو خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں بطور خصوصی مدعو رکن بلایا جا رہا ہے، جو سینیٹر طلحہ محمود کے مطابق سینیٹ کے قواعد اور رول 185 کی خلاف ورزی ہے ،سینیٹر طلحہ محمود نے مؤقف اختیار کیا کہ سینیٹر دلاور خان کا طرزِ عمل سینیٹ کے معزز ایوان کے تقدس کے خلاف ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینیٹ اور قائمہ کمیٹیوں کی وقار، سالمیت اور تقدس ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے چیئرمین سینیٹ سے اپیل کی ہے کہ معاملے کا قواعد و ضوابط کے مطابق نوٹس لیا جائے اور سینیٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے۔