گوجرانوالہ (بیورو رپورٹ) اوورسیز پاکستانی امریکن، ممتاز سیاسی و سماجی کشمیری رہنما اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے امریکہ کے لیے مشیر خواجہ محمد فاروق نے ڈی سی کالونی گوجرانوالہ میں مبینہ کرپشن، اراضی پر قبضوں، انتظامی بے ضابطگیوں اور اوورسیز پاکستانیوں و کشمیری مہاجرین کے حقوق سے متعلق معاملات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پنجاب، حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا جائے۔
خواجہ محمد فاروق نے کہا کہ عاطف چیمہ سابق سیکرٹری ڈی سی کالونی، خالد سلطان، سابق صدر ڈی سی کالونی، اور شاہین خالد، سابق صدر ڈی سی کالونی اور خالد سلطان کی اہلیہ کے ادوار سے متعلق جو شکایات، انکوائریاں اور ریکارڈ پہلے سے موجود ہیں، انہیں دوبارہ کھولا جائے اور تمام معاملات کی میرٹ پر تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ جب وہ گوجرانوالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے منتخب ممبر تھے تو ڈی سی کالونی کا ماسٹر پلان اور نقشہ انہوں نے خود منظور کروایا تھا کیونکہ یہ علاقہ ان کے حلقے میں آتا تھا، لیکن آج مبینہ طور پر اسی کالونی کے لینڈ مافیا نے انہیں بھی نہیں بخشا، خواجہ محمد فاروق نے الزام عائد کیا کہ ڈی سی کالونی کے رچنا بلاک میں ان کا ایک کنال کا پلاٹ نمبر 390 بھی مبینہ جعلسازی کے ذریعے خالد سلطان اور ان کی اہلیہ شاہین خالد نے اپنے مبینہ قریبی ساتھی عمر فاروق کے نام منتقل کر دیا ، انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں فائل کو مکمل کرنے اور دستاویزات تیار کرنے کے طریقہ کار کی بھی مکمل قانونی اور فرانزک تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ان کے بھائی عبدالرؤف کے دستخطوں سے متعلق بھی سنگین سوالات موجود ہیں۔ خواجہ فاروق کے مطابق ان کے بھائی کسی قسم کی کاغذی کارروائی یا دستخط کرنے سے انکاری ہیں، اس کے باوجود مبینہ طور پر ایسی دستاویزات تیار کی گئیں جن کی حقیقت سامنے لانا ضروری ہے۔
خواجہ محمد فاروق نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ تھانہ کینٹ پولیس اور اعلیٰ پولیس حکام سے رابطہ کرکے اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ ان کی ایف آئی آر درج کرکے معاملے کی مکمل تفتیش کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقات میں الزام درست ثابت ہو تو چالان عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر الزام ثابت نہ ہو تو قانون کے مطابق مقدمہ خارج کردیا جائے، لیکن شہری کو اپنی شکایت درج کروانے کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ “اگر مجھ جیسے اوورسیز پاکستانی کی ایف آئی آر درج نہیں ہوسکتی تو ان پاکستانیوں کا کیا بنے گا جو دنیا کے مختلف ممالک میں رہتے ہیں، جن کا پاکستان میں کوئی سیاسی اثر و رسوخ نہیں اور جنہیں کوئی جانتا تک نہیں؟”
خواجہ فاروق نے مزید کہا کہ ڈی سی کالونی گوجرانوالہ میں صرف ان کی ذاتی جائیداد کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیری مہاجرین کے اجتماعی حقوق اور سرکاری رقبے سے متعلق بھی سنگین سوالات موجود ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈی سی کالونی گوجرانوالہ میں وہ رقبہ بھی موجود تھا جو 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے کشمیری مہاجرین کے لیے مختص کیا گیا تھا اور جسے وزارت امور کشمیر کے ریکارڈ اور کشمیر کالونی کے ماسٹر پلان میں ڈسپوزل کے طور پر رکھا گیا تھا۔ خواجہ فاروق کے مطابق اس رقبے کے بارے میں بھی مبینہ طور پر بے ضابطگیاں کی گئیں اور ڈسپوزل کی جگہ پر قبضہ کر لیا گیا اور خالد سلطان نے مبینہ طور پر اپنے حواریوں کو کروڑوں روپے مالیت کے پلاٹ الاٹ کروائے۔
خواجہ محمد فاروق نے کہا کہ کشمیر کالونی کی مہاجرین جموں و کشمیر کے لیے مختص تقریبابیس فٹ چوڑی سڑک کے حوالے سے بھی قبضے کی شکایات سامنے آئیں اور اس معاملے کو اس وقت کے حلقے کے رکن قومی اسمبلی شاہد اکرم بھنڈار نے پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا، تاہم ان کے مطابق اس کے باوجود مؤثر کارروائی نہ ہوسکی۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر کشمیری مہاجرین کے لیے مختص رقبہ اور راستے بھی محفوظ نہ رہیں تو عام شہری اور اوورسیز پاکستانی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے کہاں جائیں۔
خواجہ محمد فاروق نے کہا کہ خالد سلطان سابق بیوروکریٹ رہے ہیں اور ان کی مختلف سرکاری محکموں میں رسائی کے باعث مبینہ طور پر ان کے خلاف کارروائی میں رکاوٹیں پیدا ہوتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ تاثر درست ہے تو اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے کہ سرکاری افسران یا دیگر بااثر افراد نے کسی معاملے میں غیرقانونی سہولت کاری تو نہیں کی۔
انہوں نے خاص طور پر کہا کہ اینٹی کرپشن کی انکوائری اور کمشنر گوجرانوالہ خوشنود اختر لاشاری کی جانب سے کی گئی انکوائری پر عملدرآمد نہ ہونا ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ خواجہ فاروق نے مطالبہ کیا کہ دونوں انکوائریوں کو منظر عام پر لایا جائے، ان کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں اور اگر ان میں کسی بے ضابطگی یا بدعنوانی کی نشاندہی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
خواجہ محمد فاروق نے اعلان کیا کہ “ان شاء اللہ میں ان دونوں انکوائریوں کو اوپن کروانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کروں گا۔ انکوائریاں میرٹ پر دوبارہ دیکھی جائیں گی اور جو بھی شخص اس معاملے میں ملوث پایا گیا، خواہ وہ کوئی افسر ہو یا کوئی بااثر شخصیت، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ وہ یہ معاملہ متعلقہ اعلیٰ حکام کے ساتھ ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کے نمائندہ اداروں کے سامنے بھی اٹھا رہے ہیں تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ پاکستان میں ان کی جائیداد اور قانونی حقوق محفوظ ہیں۔
خواجہ محمد فاروق نے بتایا کہ انہوں نے معاملہ اوورسیز کمیشن پاکستان کے چیئرمین سید قمر رضا کے نوٹس میں بھی لایا ہے، جنہوں نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے، حتیٰ کہ اگر ضرورت پڑی تو ریاستی سطح پر بھی متعلقہ حکام سے بات کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پنجاب کے وائس چیئرمین بیرسٹر امجد ملک کو بھی معاملے سے آگاہ کیا گیا ہے اور انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے جائز حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
خواجہ محمد فاروق نے کہا کہ وہ حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب سے کسی ذاتی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ صرف قانون کے مطابق ایف آئی آر کے اندراج، شفاف تحقیقات، ریکارڈ کی جانچ اور میرٹ پر کارروائی چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور اگر ان کی جائیدادیں بھی محفوظ نہ ہوں تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا پاکستان میں سرمایہ کاری اور جائیداد خریدنے کا اعتماد متاثر ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں اور خصوصاً 1965ء کے کشمیری مہاجرین کے حقوق سے متعلق تمام ریکارڈ کو محفوظ کیا جائے اور کسی بھی مبینہ قبضے یا غیرقانونی الاٹمنٹ کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
خواجہ محمد فاروق نے کہا کہ وہ اس معاملے کو آخری انجام تک لے کر جائیں گے اور تمام قانونی و آئینی فورمز سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی فرد کے خلاف ذاتی انتقام نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، شفافیت، اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ اور مبینہ لینڈ مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہے۔
انہوں نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب، اعلیٰ پولیس حکام، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ڈی سی کالونی گوجرانوالہ کے تمام معاملات کی اعلیٰ سطحی، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، سابقہ انکوائری رپورٹس پر عملدرآمد کیا جائے اور اگر کسی فرد کے خلاف الزامات یا بے ضابطگیاں قانون کے مطابق ثابت ہوں تو بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔

