واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک ) آسکر ایوارڈ یافتہ امریکی اداکارہ انجلینا جولی نے اظہار رائے کی آزادی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کو مزید تسلیم نہیں کرتی ہیں سپین کے فلم فیسٹیول میں اپنی تازہ ترین فلم کی نمائش کے دوران ان کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تنقید کرنے والے میڈیا پر کریک ڈاؤن کے بعد اظہار رائے کی آزادی پر تشویش بڑھ رہی ہے جولی سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ میں اظہار رائے کی آزادی سے خوفزدہ ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے ملک سے محبت کرتی ہوں، لیکن میں اس وقت اپنے ملک کو نہیں پہچانتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کہیں بھی کوئی بھی چیز جو تقسیم کرتی ہے یا یقیناً اظہار رائے اور آزادی کو محدود کرتی ہے میرے خیال میں بہت خطرناک ہے، یہ بہت، بہت بھاری وقت ہے 50 سالہ انجلینا جولی فرانسیسی فلمساز ایلس ونوکور کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم کوچر کی پروموشن کے لیے سپین میں تھیں انہیں آسکر ایوارڈ 1999 میں ’’گرل، انٹرپٹڈ‘‘ میں ان کے کردار کے لیے دیا گیا تھا جولی نے 2013 میں چھاتی کے کینسر سے بچاؤ کے لیے سرجری کروائی اور بعد میں ان کی بیضہ دانی اور فیلوپین ٹیوبیں ہٹا دی گئیں تاکہ کینسر کے زیادہ خطرے کو کم کیا جا سکے انجلینا جولی کی والدہ کی موت کینسر سے ہوئی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ فلم بناتے وقت وہ اکثر اپنی ماں کے بارے میں سوچتی تھیں کہ میری خواہش ہے وہ اتنی ہی کھل کر بات کرنے کے قابل ہوتیں جیسا کہ میں رہی ہوں انہوں نے مزید کہا کہ خواتین میں کینسر پر دھیان دینا بہت اہم ہے، کیونکہ یہ ہم پر اثر انداز ہوتا ہے۔

