رواں سال اسلام آباد پولیس میں ریکارڈ پرموشنز ہیں ۔ آئی جی اسلام آباد سید علی ناصررضوی

اسلام آباد (کرائم رپورٹر)رواں سال اسلام آباد پولیس میں ریکارڈ پرموشنز ہین ، آئی جی اسلام آباد سید علی ناصررضوی نے 1039افسران کو اگلے عہدوں پر ترقی دی،رواں سال 10 ڈی ایس پیز کو ایس پی ، 27 انسپکٹرز کو ڈی ایس پی، 94 سب انسپکٹرز کو انسپکٹر ،189 اے ایس آئی کی سب انسپکٹر، 311 ہیڈکنسٹیبلز کی اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی ہوئی ، جبکہ388 کنسٹیبلز کو ہیڈ کانسٹیبل اور 40 کلیریکل سٹاف کی بھی اگلے عہدوں پر ترقیاں ہوئیں۔

تفصیلات کے مطابق رواں سال کے دوران اسلام آباد پولیس میں ریکارڈ پرموشنزہوئیں، انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے اسلام آباد پولیس کی محکمانہ ترقی کمیٹی کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ تمام خالی سیٹوں پر جلد از جلد اجلاس طلب کر کے افسران کی ترقیاں کریں،جس پر محکمانہ ترقی کمیٹی کے مختلف اہم اجلاس منعقد ہوئے ،جنہوں نے خالی سیٹوں پر میرٹ اور شفافیت پر پروموشن کرتے ہوئے رواں سال کے دوران 1039افسران کو اگلے عہدوں پرترقی دی ،اجلاس میں سینئر پولیس افسران نے معیار پر پورا اترنے والے مختلف رینکس کے افسران کے ریکارڈ کا جائزہ لیا،کمیٹی نے اچھے ریکارڈ کے حامل افسران کی سفارشات آئی جی اسلام آبا دکو ارسال کیں، جس پر آئی جی اسلام آبا دنے ترقی کی منظوری دی،جن میں رواں سال کے دوران 10 ڈی ایس پیز کو ایس پی کے عہدوں پر ترقی دی گئی،27 انسپکٹرز کو ڈی ایس پی، 94 سب انسپکٹرز کو انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی .

جبکہ 189 اے ایس آئی کی سب انسپکٹر، 311 ہیڈکنسٹیبلز کی اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی ہوئی، اسی طرح 388 کنسٹیبلز کو ہیڈ کانسٹیبل اور 40 کلیریکل سٹاف کی بھی اگلے عہدوں پر ترقی ہوئی،آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ محکمانہ ترقی ذمہ داریوں میںاضافے اور اعتماد کی عکاس ہے ،جبکہ ترقی ہر پولیس افسر کا بنیادی حق ہے،انہوں نے مزید کہا کہ میں امید کرتا ہوں نئے ترقی یاب ہونے والے افسران اپنے فرائض منصبی خوش اسلوبی اور ایمانداری کے ساتھ سر انجام دیں گے اور اس شہیدوں اور غازیوں کے محکمہ کی نیک نامی کے لئے اپنے فرائض پوری توانائی اور مستعدی سے ادا کریں گے،انہوں نے مزید کہا کہ پولیس فورس کی ویلفئیر میری اولین ترجیحات میں شامل ہے ،جبکہ تمام محکمانہ ترقی کے کورس پاس کرنے والے والے افسران کو ان کی سنیارٹی کے مطابق خالی سیٹوں پر میرٹ اور شفافیت پر ترقی دی جائے گی اور یہ سلسلہ تمام خالی سیٹیں مکمل ہونے تک جاری رہے گا.