اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) معروف ٹک ٹاکر اور ماہرِ امراضِ جلد ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ اور غیر قانونی کلینک چلانے کے الزامات سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، اسپیشل جج سنٹرل ہمایوں دلاور نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی عبوری ضمانتوں میں 5 مئی تک توسیع کر دی ہے، عدالت نے آئندہ سماعت تک انہیں گرفتاری سے بھی روک دیا ہے۔
سماعت کے دوران ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی جانب سے ضمانت کی درخواستوں پر دلائل پیش نہ کیے جا سکے، جس پر عدالت نے آئندہ پیشی پر متفرق اور مرکزی درخواستوں پر مکمل دلائل دینے کی ہدایت جاری کی ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی ہے، واضح رہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ اور غیر قانونی کلینک کے حوالے سے دو الگ مقدمات درج کر رکھے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔
ایف آئی اے نے اربوں روپے مالیت کی منی منی لانڈرنگ کیس میں ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف مقد مہ میں موقف اختیار کیا غیر مجاز زرِ مبادلہ کے کاروبار، بغیر لائسنس کے منی منی لانڈرنگ، جس کے نتیجے میں انہوں نے جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کو سفید کیا، تحقیقات کے دوران، ملزمہ اور ان کے مشترکہ اکاؤنٹ ہولڈرز کے پاکستانی روپے، امریکی ڈالر اور درہم کے اکاؤنٹس کا تفصیلی مالیاتی تجزیہ کیا گیا۔
جس پر انکشاف ہوا کہ یو بی ایل، جے ایس بینک، ڈی آئی بی اور ایم سی بی میں موجود بائیس (22) بینک اکاؤنٹس کا مجموعی کریڈٹ ٹرن اوور تقریباً2.5 ارب پاکستانی روپے ہے، جبکہ ملزمہ کی ظاہر کردہ سالانہ آمدنی ،400,00,6000,000.پاکستانی روپے کے درمیان رہی، شواہد سے مزید پتہ چلتا ہے کہ غیر ملکی کرنسی کے ذخائر جان بوجھ کر سے کم رکھے گئے، جو کہ منی لانڈرنگ سے متعلق قوانین کے تحت مشتبہ لین دین کی اور کرنسی لین دین کی سے بچنے کے واضح ارادے کو ظاہر کرتا ہے، یاد رہے کہ ایف ائی اے نے معروف اداکار حمزہ علی عباسی کی بہن فضیلہ عباسی کے خلاف غیر قانونی کلینک چلانے کا بھی مقدمہ درج کر رکھا تھا.

