یومِ مزدور اور ہمارے غریب محنت کش(عروج عباسی )

یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔ یہ دن اُن محنت کش افراد کی قربانیوں اور جدوجہد اور حقوق کی یاد دلاتا ہے جو اپنی محنت سے معاشرے کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی لاکھوں غریب مزدور دن رات محنت کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں وہ سہولیات اور عزت نہیں ملتی جس کے وہ حق دار ہیں ہمارے ملک کے غریب مزدور نہ صرف اپنی روزی کمانے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں بلکہ اپنی کم آمدنی کے باوجود ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خون پسینے کی کمائی سے ملک کی معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔

ان کی زندگی مشکلات سے بھری ہوتی ہے مہنگائی بے روزگاری، اور بنیادی سہولیات کی کمی ان کے لیے روزمرہ کا مسئلہ ہے یہ مزدور گرمی ہو یا سردی، ہر حال میں کام کرتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔
ان کی دعائیں سادہ ہوتی ہیں دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم اور ایک باعزت زندگی ایسے میں ہمیں ان کے لیے دعا کرنی چاہیے خدا تمہاری مشکلات کو آسان کرے یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک احساس ہے، ایک اعتراف ہے ان کی محنت کا۔

یومِ مزدور ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہم ان محنت کشوں کے حقوق کا خیال رکھیں، انہیں عزت دیں، اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ مزدوروں کو بہتر حالاتِ زندگی فراہم کرے، مناسب اجرت دے، اور ان کے لیے سہولیات پیدا کرے آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مزدور ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر ہم ان کی قدر کریں گے تو ہمارا ملک ترقی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام محنت کش بھائیوں اور بہنوں کی مشکلات آسان فرمائے اور انہیں خوشحال زندگی عطا کرے آمین۔