ایف آئی اے کا ملک بھر میں بڑا کریک ڈاؤن، حوالہ ہنڈی، کرپشن اور ٹریول ایجنسی فراڈ میں درجنوں گرفتار

اسلام آباد(کرائم رپورٹر)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ملک بھر میں حوالہ ہنڈی، غیر قانونی کرنسی ایکسچینج، کرپشن اور غیر قانونی ٹریول ایجنسیوں کے خلاف بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا ، لاہور میں ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے کارروائی کرتے ہوئے حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔ چھاپوں کے دوران پانچ ملزمان وسیم محمود آفریدی، عبد الوہاب، ادریس خان، اسحاق اور زبیر کو دہلی گیٹ لاہور سے گرفتار کیا گیا، جبکہ نیٹ ورک کے سرغنہ وسیم محمود آفریدی کو پارک ویو سٹی لاہور سے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان سے 1 کروڑ 12 لاکھ روپے سے زائد نقدی، موبائل فونز اور اہم شواہد بھی برآمد ہوئے۔

کراچی میں بھی ایف آئی اے نے مختلف کارروائیوں کے دوران کرپشن اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ اینٹی کرپشن سرکل نے سابق پوسٹ ماسٹر محمد شفیق کو گرفتار کیا، جس پر سرکاری فنڈز میں 49 لاکھ روپے سے زائد خردبرد کا الزام ہے اسی طرح اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے غیر قانونی ٹریول ایجنسی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ملزم نیاز احمد کو گرفتار کیا، جو ورک ویزا کے نام پر شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کر کے مفرور تھا۔

مزید کارروائیوں میں غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم عبدالقیوم کو بھی گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے اربوں مالیت کی غیر ملکی کرنسی اور موبائل فون برآمد ہوا۔ تفتیش میں ملزم نے بلیک مارکیٹ میں کرنسی کے غیر قانونی کاروبار کا اعتراف کیا ایف آئی اے نے شاہراہ فیصل کراچی پر ایک اور کارروائی میں غیر قانونی ٹریول ایجنسی کے مالک محمد حمزہ کو گرفتار کیا، جس کے قبضے سے پاسپورٹس، چیک بکس، موبائل فونز اور دیگر دستاویزات برآمد ہوئیں۔ ملزم بیرون ملک ویزوں کے نام پر شہریوں سے فیس وصول کرتا تھا۔

کمرشل بینکنگ سرکل کراچی نے بھی بڑی کارروائی کرتے ہوئے 2014 سے مفرور اشتہاری ملزم شاریق محمود کو ملائیشیا سے واپسی پر ایئرپورٹ پر گرفتار کر لیا، جس پر 30 لاکھ روپے کی مالی خردبرد کا الزام ہے ایک اور کارروائی میں حوالہ ہنڈی نیٹ ورک سے منسلک ملزم سلمان رضا کو گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے مختلف غیر ملکی کرنسی اور بڑی رقم برآمد ہوئی ، ایف آئی اے ترجمان کے مطابق تمام ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے، جبکہ ملک بھر میں مالی جرائم، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔