اسلام آباد (احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) ایف آئی اے نے پاکستان کی گو پیٹرولیم کمپنی کے خلاف کسٹم کی مبینہ ساز باز سے اربوں روپے کی ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے 5 ارب 94 کروڑ روپے کی ریکوری کرلی۔
ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نےگو پیٹرولیم کمپنی سے 5 ارب 94 کروڑ روپے کی ریکوری کر لی جبکہ تحقیقات میں گو پٹرولیم کمپنی کی جانب سے دیگر ٹیکس چوریوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ گو کمپنی کی جانب سے ادا کی گئی رقم میں سابقہ ڈیوٹی اور ٹیکسز کی رقم بھی شامل ہے، ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے کے درج مقدمے کی تحقیقات میں مختلف اداروں کے کردار سے متعلق جانچ بھی جاری ہے، مقدمات سے متعلق ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی اور ٹیکس چوری سے متعلقہ مقدمہ کسٹمز ایکٹ، تعزیرات پاکستان اور انسداد بدعنوانی قوانین کے تحت درج کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایف ائی اے کا گو پیٹرولیم کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن اربوں روپے کے مبینہ ٹیکس چوری گو پیٹرولیم کے سی ای او متعدد افیسرز مقدمہ میں نامزد ہیں اوگرا کے افسران کو تفتیش کے بعد نامزد کیا جائے گا، ایف ائی ار کے مطابق کمپنی پر بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات قواعد کے برعکس فروخت کرنے ریکارڈ میں رد و بدل اور جالی دستے ساتھ استعمال کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا .
وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے گو پٹرولیم (M/s Gas & Oil Pakistan Limited) اور متعلقہ افراد کے خلاف مبینہ طور پر کسٹمز قوانین کی خلاف ورزی، پیٹرولیم مصنوعات کے ریکارڈ میں ہیر پھیر اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے، وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے ایف آئی آر نمبر کے مطابق مقدمہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی متعلقہ دفعات، پاکستان پینل کوڈ کی دفعات اور پریوینشن آف کرپشن ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔
مقدمہ FIA کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امجد ارشد بٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا. ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں موجود پیٹرولیم مصنوعات کو مبینہ طور پر بغیر مطلوبہ ایکس بانڈ گڈز ڈیکلریشن (EB GD) اور سرکاری واجبات کی ادائیگی کے منتقل یا فروخت کیا گیا، جس کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
مقدمے میں جن ملزمان کو نامزد کیا گیا ان میں :
خالد ریاض — چیف ایگزیکٹو آفیسر، M/s Gas & Oil Pakistan Limited (GO Petroleum)
فیاض احمد — چیف ایگزیکٹو آفیسر، M/s Terminal One Limited (TOL)
فرحان احمد صدیقی — ٹرمینل منیجر، M/s Terminal One Limited
اناس جاوید — گو پٹرولیم کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤس کے دستخط کنندہ
محمد حسن ہارون — سینئر منیجر، گو پٹرولیم کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤس محمود کوٹ مظفرگڑھ ایف آئی آر کے مطابق تحقیقات کے دوران متعلقہ ریکارڈ، کسٹمز دستاویزات اور بانڈڈ اسٹاک کی جانچ کی گئی، جس میں مبینہ تضادات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا، ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مزید افراد یا افسران کا کردار تحقیقات کے دوران سامنے آنے پر کارروائی کی جا سکتی ہے.
ایف آئی اے نے کیس کی تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ ملزمان کے خلاف الزامات کی حقیقت کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔ اس کے علاوہ، کلکٹریٹس آف کسٹمز اپریزمنٹ (پورٹ محمد بن قاسم، فیصل آباد اور لاہور ایسٹ) کے متعلقہ افسران و اہلکار، جن کے کردار کا تعین دورانِ تفتیش کیا جائے گا.
اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کے افسران یا کوئی دیگر افراد، اگر یہ ثابت ہوا کہ انہوں نے جرم میں سہولت فراہم کی، معاونت کی یا سازش میں شریک رہے، تو انہیں بھی اس مقدمے میں شامل کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کے ممبر آئل کو ایف ائی اے نے مقدمہ ددرف کرنے سے پہلے طلب کیا تھا .
اور دو گھنٹے تک ان سے تفتیش جاری رہی ایف ائی اے زرائع کا کہنا ہے کے اوگرا کے دیگر افسران جن میں چئرمین اوگرا سمیت دیگر افسران کو بھی تفتیش کے بعد مقدمہ میں نامزد کیے جانے کا امکان ہے ، تا ہم ایف ائی اے نے ملزمان جن میں خالد ریاض —چیف ایگزیکٹو آفیسر، M/s Gas & Oil Pakistan Limited (GO Petroleum) ، فیاض احمد — چیف ایگزیکٹو آفیسر، M/s Terminal One Limited (TOL) فرحان احمد صدیقی — ٹرمینل منیجر، M/s Terminal One Limited . ، اناس جاوید — گو پٹرولیم کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤس کے دستخط کنندہ ، محمد حسن ہارون — سینئر منیجر، گو پٹرولیم کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤس، محمود کوٹ مظفرگڑھ شامل ہیں کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں ملزمان گرفتاری کے خوف سے روپوش ہوگئے ہیں .

