اسلام آباد، انسانی اعضا کی مبینہ غیر قانونی تجارت کیس میں گرفتار 5 ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے مبینہ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے گرفتار 5 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل کی عدالت میں پیشی کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ملزمان کے مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم جاری کیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور گواہان کے بیانات ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، لہٰذا مزید جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔ تاہم عدالت نے دلائل سننے کے بعد جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور نہ کی۔

ایف آئی اے اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کی مشترکہ کارروائی میں ایف سیون اسلام آباد سے گزشتہ دنوں چھاپہ مار کر چینی باشندوں سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، تحقیقات کے مطابق چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں انسانی پلاسنٹا برآمد ہوا، جس میں تازہ، خشک اور پراسیس شدہ مواد شامل تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مواد مبینہ طور پر مختلف اسپتالوں سے حاصل کیا جاتا تھا۔

مزید انکشافات کے مطابق پلاسنٹا پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے اسپتالوں سے جمع کیا جاتا اور بعد ازاں پراسیس کر کے اسے مبینہ طور پر بھیڑ کے اعضا ظاہر کرتے ہوئے بیرون ملک برآمد کیا جاتا تھا، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر دوبارہ پیش کیا جائے، جبکہ کیس کی مزید سماعت اور تفتیش جاری رہے گی۔