غیر قانونی سگریٹ کی اسمگلنگ بے نقاب، 11 ٹرکوں سے ڈھائی کروڑ سگریٹ برآمد

اسلام آباد( احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) خیبرپختونخوا میں قائم مختلف سگریٹ فیکٹریوں سے مبینہ طور پر ایف بی آر حکام کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے مالیت کے غیر قانونی اور ٹیکس چوری والے سگریٹ ملک کے مختلف شہروں میں منتقل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع کے مطابق موٹروے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 11 ٹرکوں سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سگریٹ ضبط کر لیے، جنہیں بعد ازاں قانونی کارروائی کے لیے کسٹمز حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

کیپیٹل نیوز پوائنٹ انویسٹیگیشن سیل کو حاصل معلومات کے مطابق کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ صوابی سے لاہور، ملتان اور سرگودھا کی جانب غیر قانونی سگریٹ بڑی مقدار میں منتقل کیے جا رہے ہیں، ابتدائی اطلاع چار ٹرکوں سے متعلق تھی، تاہم موٹروے پولیس نے نگرانی بڑھاتے ہوئے مجموعی طور پر 11 ٹرک پکڑ لیے۔

ذرائع کے مطابق ضبط کیے گئے سگریٹوں میں Cafe، Chase، More One، Smoke Star، Black Eagle اور Dubai Lights برانڈز شامل ہیں، جبکہ یہ برانڈز مبینہ طور پر ایشیا ٹوبیکو کمپنی، جے سنز ٹوبیکو کمپنی، سموک اسٹار ٹوبیکو کمپنی اور یونیورسل ٹوبیکو کمپنی سے منسلک ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ Cafe اور More One برانڈز یونیورسل ٹوبیکو کمپنی کے رجسٹرڈ برانڈز ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں بعض ضبط شدہ برانڈز کی ملکیت اہم سیاسی خاندانوں سے منسلک ہونے کا انکشاف ہوا ہے، دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یونیورسل ٹوبیکو کمپنی سابق رکن قومی اسمبلی حاجی نسیم الرحمان کی ملکیت ہے، جو سینیٹر فیصل سلیم کے قریبی رشتہ دار ہیں، ذرائع کے مطابق سینیٹر فیصل سلیم کے قریبی خاندان کی ملکیت میں یونیورسل، مارخور اور ملت ٹوبیکو کمپنیاں بھی شامل ہیں، جبکہ آزاد کشمیر میں قائم بعض سگریٹ فیکٹریوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مظفرآباد کی مبینہ غیر قانونی سگریٹ فیکٹری وے وارڈ ٹوبیکو کے مالک بابر تاج کے بھی مذکورہ کاروباری حلقوں سے تعلقات رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بابر تاج ماضی میں مختلف مقدمات میں گرفتار بھی ہو چکے ہیں، ذرائع کے مطابق ماضی میں بھی ان سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ ٹیکس چوری پر ایف بی آر کارروائیاں کر چکا ہے۔ سابق ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو فہیم رشید نے بھی مختلف سیاسی شخصیات سے منسلک سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف کارروائیاں کی تھیں، جس کے بعد وہ مبینہ طور پر دباؤ کا شکار رہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی کے بعد بعض بااثر شخصیات کی جانب سے کیس پر اثرانداز ہونے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم کسٹمز حکام تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے احکامات کے تناظر میں اس کارروائی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔