جھارکھنڈ میں مبینہ پیپر لیک اور بدعنوانی کے خلاف طلبا کا احتجاج، پولیس کا واٹر کینن اور لاٹھی چارج

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں سرکاری ملازمتوں کے مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور بدعنوانی کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا نے اسمبلی کی جانب مارچ کیا، جس کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا اور بعض مقامات پر لاٹھی چارج بھی کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق طلبا کا احتجاج کئی روز سے جاری ہے اور پیر کو مظاہرین نے بڑی تعداد میں اسمبلی کی جانب مارچ کیا، طلبا جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں ، رپورٹ کے مطابق مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں امیدوار ٹرینوں، بسوں اور دیگر ذرائع سے رانچی پہنچے، طلبا نے ہاتھوں میں بھارتی پرچم اور مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

مظاہرین نے اسمبلی کی جانب بڑھتے ہوئے پولیس کی جانب سے قائم کی گئی متعدد رکاوٹیں ہٹا دیں، پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، تاہم کئی مظاہرین پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھتے رہے۔ بعض مقامات پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج بھی کیا گیا ، طلبا کا بنیادی مطالبہ مختلف بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور معاملے کی مرکزی تحقیقاتی ادارے سے انکوائری ہے، مظاہرین خاص طور پر جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن کے 2024 کے مشترکہ گریجویٹ لیول امتحان کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق طلبا اور ریاستی حکومت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور بھی ہو چکے ہیں، تاہم اہم مطالبات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا، احتجاج کی قیادت کرنے والے دیویندر ناتھ مہتو بھی کئی روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور طبیعت خراب ہونے کے باوجود اسمبلی مارچ میں شریک ہوئے ، حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نے طلبا کے بیشتر مطالبات تسلیم کرلیے ہیں، جبکہ احتجاجی طلبا حکومتی مؤقف سے مطمئن نہیں اور مزید اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب جھارکھنڈ میں بھرتی امتحانات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا دائرہ بھی وسیع ہوگیا ہے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے معاملے کے مالی پہلوؤں کی تحقیقات شروع کردی ہیں ، طلبا کا کہنا ہے کہ امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور بدعنوانی نے لاکھوں امیدواروں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے، اس لیے صرف انتظامی اصلاحات کے بجائے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی اور مکمل تحقیقات کی جائیں۔