power devision capittalnewspoint.com

درآمدی کوئلے کی خریداری میں خامیوں کی نشاندہی، سالانہ 38 کروڑ روپے بچت کا امکان

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جانب ایک اہم اقدام کے طور پر پاور ڈویژن نے پاور پلانٹس کی جانب سے درآمدی کوئلے کی خریداری میں موجود غیر مؤثر طریقہ کار اور خامیوں کی نشاندہی کی ہے ، اس ضمن میں اصلاحی اقدامات کے لیے پالیسی گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں سالانہ 380 ملین روپے تک کی بچت ممکن ہو سکتی ہے۔

ان حقائق کا انکشاف وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے دوران ہوا ، ان اجلاسوں میں محض رپورٹوں یا بیرونی تحقیقات پر انحصار کرنے کے بجائے حقیقی اعداد و شمار، معاہداتی انتظامات اور مارکیٹ کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

پاکستان میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 5,280 میگاواٹ ہے، جن میں سے متعدد مکمل یا جزوی طور پر درآمدی کوئلے پر انحصار کرتے ہیں ، ان میں پورٹ قاسم، حب پاور اور ساہیوال کے 1,320 میگاواٹ کے تین بڑے پاور پلانٹس شامل ہیں، جبکہ لکی اور جامشورو پاور پلانٹس بھی درآمدی کوئلہ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں, ان پاور پلانٹس کو چلانے کے لیے عالمی سپلائرز کے ساتھ کوئلے کی فراہمی کے معاہدے کیے جاتے ہیں۔

درآمدی کوئلے کی قیمت عام طور پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اشاریوں، جیسا کہ API-4 انڈیکس، سے منسلک ہوتی ہے جو عالمی منڈیوں میں کوئلے کی قیمت کی عکاسی کرتا ہے ، تاہم، ایک پاور پلانٹ کی جانب سے ادا کی جانے والی حتمی قیمت کا انحصار صرف اس اشاریے پر نہیں بلکہ اس رعایت پر بھی ہوتا ہے جو وہ سپلائر سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

تجزیے سے معلوم ہوا کہ مختلف پاور پلانٹس ایک ہی عالمی اشاریے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہی سپلائرز سے کوئلہ خرید رہے تھے، لیکن انہیں حاصل ہونے والی رعایت میں نمایاں فرق تھا، جو 0.25 امریکی ڈالر سے 7.12 امریکی ڈالر فی میٹرک ٹن تک تھا, جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک ہی سپلائر نے مختلف پاور پلانٹس کو نمایاں طور پر مختلف رعایتیں فراہم کیں۔ بعض معاملات میں بنیادی سپلائی معاہدوں کے مقابلے میں بیک اپ سپلائی کے انتظامات کم رعایت پر کیے گئے۔

علاوہ ازیں، ایسے معاملات بھی سامنے آئے جہاں زیادہ رعایت فراہم کرنے والے سپلائر کے ساتھ معاہدہ موجود ہونے کے باوجود کم رعایت دینے والے سپلائر سے کوئلہ حاصل کیا جا رہا تھا ، یہ فرق اس لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ ایندھن کی لاگت بالآخر بجلی کے ٹیرف کے ذریعے صارفین سے وصول کی جاتی ہے۔ ایندھن کی خریداری کی لاگت میں کوئی بھی غیر ضروری اضافہ براہِ راست ملک بھر کے گھریلو اور کاروباری صارفین پر اضافی بوجھ کا باعث بنتا ہے۔

فوری اقدام کے طور پر پاور ڈویژن نے ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ کوئلے کی خریداری میں شفافیت، یکسانیت اور مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو پالیسی گائیڈ لائنز باقاعدہ طور پر جاری کی جا رہی ہیں۔

اصلاحات کے پہلے مرحلے کے طور پر پاور ڈویژن کوئلے کی خریداری کے لیے بہترین دستیاب رعایت کا ایک سادہ مگر اہم اصول متعارف کروا رہا ہے ، پاور پلانٹس کے لیے لازم ہوگا کہ وہ قابلِ اطلاق بین الاقوامی اشاریے کے مقابلے میں سب سے زیادہ رعایت پیش کرنے والے اپنے معاہدہ شدہ سپلائرز سے کوئلہ خریدیں اور انہیں کم رعایت دینے والے سپلائر سے خریداری کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس اصلاح کی بنیاد پر سالانہ تقریباً 380 ملین روپے کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ بچت بغیر کسی اضافی سرمایہ کاری کے محض اس بات کو یقینی بنا کر حاصل کی جائے گی کہ پاور پلانٹس کوئلہ بہترین دستیاب رعایت پر خریدیں۔

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ یہ اقدام پاور ڈویژن کے وسیع تر اصلاحاتی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت اعداد و شمار اور مارکیٹ کے تجزیے کے ذریعے خامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے، مناسب ریگولیٹری اور پالیسی اقدامات کے ذریعے انہیں دور کیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ حاصل ہونے والی بچت کے فوائد بجلی کے صارفین تک پہنچیں۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد تجارتی امور میں مداخلت کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ جہاں ایندھن کی لاگت بالآخر صارفین پر منتقل ہوتی ہے، وہاں خریداری کا عمل مؤثر اور شفاف انداز میں انجام دیا جائے ، کوئلے کی خریداری کا یہ جائزہ پاکستان کے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے پاور ڈویژن کی جانب سے کیے جانے والے مسلسل اصلاحی اقدامات کا حصہ ہے۔

حکومت پاور سیکٹر کے ہر پہلو کا جائزہ لے کر غیر ضروری اخراجات کے خاتمے اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ عوامی ادارے حقیقی معنوں میں عوامی مفاد کے لیے کام کریں۔