ابوظہبی (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دوطرفہ تعاون اور مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ، عرب میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی مفادات کے لیے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر گفتگو کی، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری پیش رفت اور خطے کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے جاری کوششیں بھی زیر بحث آئیں۔
اماراتی حکام کے مطابق سرکاری بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے کسی مخصوص سفارتی یا فوجی اقدام پر اتفاق کیا ہے ، دونوں رہنماؤں کا رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی حساس ہے، امریکی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے خطے میں امریکی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ خلیجی ممالک نے بھی اپنی فضائی دفاعی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور خلیج میں بھی صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں ، قبل ازیں ایرانی فوج نے سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ کویت کے احمد الجابر ایئر بیس پر امریکی فوج کے سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، سامان کے گوداموں اور جنگی طیاروں کے ہینگرز کو نشانہ بنایا گیا۔

