لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جانب سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فلک جاوید سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ، درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے سماعت کی ، عدالت میں عظمیٰ بخاری کی جانب سے ایڈووکیٹ علی زاہد بخاری پیش ہوئے اور درخواست کے مختلف قانونی پہلوؤں پر دلائل دیے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے جاری کیے گئے فیصلے حقائق کے مطابق نہیں، جبکہ ٹرائل کورٹ نے عظمیٰ بخاری کا مؤقف بھی مناسب طور پر نہیں سنا ، وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی وزیر کو ایک مذہبی تنظیم کی جانب سے مبینہ خطرات کا سامنا ہے، اس لیے انہیں عدالت میں براہ راست پیش ہونے کے بجائے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت دی جائے۔
درخواست میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی بھی استدعا کی گئی ، لاہور ہائیکورٹ نے درخواست ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فلک جاوید سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور ان سے جواب طلب کر لیا۔

