اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے ایندھن کے استعمال میں کمی اور اضافی اخراجات پر قابو پانے کے لیے مزید کفایت شعاری اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اسپیکر قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد سیکریٹریٹ کی جانب سے نیا آفس آرڈر بھی جاری کر دیا گیا۔
نئے احکامات کے مطابق تعینات افسران کو روٹیشن کی بنیاد پر صرف ایک ماتحت افسر اور ایک اہلکار کو دفتر بلانے کی اجازت ہوگی ، 50 فیصد سے زائد عملہ بلانے کی صورت میں معقول جواز پیش کرنا اور متعلقہ ونگ ہیڈ کی سفارش حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے ، تمام افسران و ملازمین کی باری مکمل ہونے سے پہلے کسی ایک ملازم کو دوبارہ بلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
سیکیورٹی برانچ میں مارننگ شفٹ کے لیے 20 جبکہ ایوننگ اور نائٹ شفٹ کے لیے 6،6 اہلکار مقرر کیے گئے ہیں ، آر اینڈ آئی برانچ میں بھی فی شفٹ زیادہ سے زیادہ 3 ملازمین ڈیوٹی انجام دیں گے۔
دوسری جانب سینیٹ سیکریٹریٹ نے بھی فوری طور پر اضافی کفایت شعاری اقدامات نافذ کر دیے ہیں ، جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سینیٹ سیکریٹریٹ کے ملازمین کے لیے جمعہ کو ورک فرام ہوم ہوگا، تاہم اجلاس کی صورت میں عملہ دفتر آئے گا جبکہ اجلاس نہ ہونے پر ملازمین کو فون پر دستیاب رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کے دفتری اوقات صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک مقرر کیے گئے ہیں ، ملازمین کو گھر سے کام کے دوران ٹیلی فون، ای میل اور واٹس ایپ پر دستیاب رہنا ہوگا جبکہ ضرورت پڑنے پر ایک گھنٹے کے نوٹس پر دفتر پہنچنا بھی لازم ہوگا۔
کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی جائے گی، جبکہ گاڑیوں کی نئی خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ، مالی سال 2026-27 کے نان ای آر ای بجٹ میں بھی 5 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سینیٹ سیکریٹریٹ کے اجلاس ترجیحاً ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے اور اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے اجلاس بھی ورچوئل موڈ میں منعقد کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اخراجات کم رکھنے کے لیے اجلاسوں کی تعداد کو بھی کم سے کم سطح پر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سینیٹ سیکریٹریٹ میں آئی ٹی سامان کے علاوہ ہر قسم کی پائیدار اشیا کی خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تین ماہ تک غیر ملکی دوروں اور سرکاری سفری اخراجات پر مکمل پابندی ہوگی، تاہم بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کی اسکالرشپس اور مخصوص تربیتی پروگرام اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں کے انعقاد پر بھی پابندی ہوگی جبکہ حکومت کی جانب سے فنڈ کیے جانے والے سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز کے انعقاد کی اجازت نہیں ہوگی۔ ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے آڈیٹوریم، کمیٹی رومز اور دیگر دستیاب سرکاری سہولیات استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اخراجات میں مزید کمی کے لیے سینیٹ سیکریٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ ماحول اپنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ، نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تمام اضافی کفایت شعاری اقدامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔

