27 ستمبر احتجاج، پی ٹی آئی رہنماؤں سے منسوب بیانات پر حکومتی حلقوں کا ردعمل

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بعض رہنماؤں سے منسوب بیانات پر حکومتی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے ، حکومتی حلقوں نے بعض بیانات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ احتجاج کے حوالے سے پی ٹی آئی قیادت کے ارادوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

حکومتی حلقوں کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کے حالیہ بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ احتجاجی سرگرمی کو معمول کے سیاسی احتجاج سے آگے لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، حکومتی مؤقف ہے کہ بعض رہنماؤں کے بیانات کارکنوں میں اشتعال پیدا کرنے اور ریاستی اداروں کے خلاف جذبات ابھارنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

حکومتی دعوے کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے منسوب بعض بیانات میں فائرنگ، ملک میں ممکنہ خانہ جنگی اور نوجوانوں کو اشتعال دلانے سے متعلق باتیں کی گئی ہیں ، حکومتی حلقوں نے کراچی کو بند کرنے اور خون بہانے سے متعلق مبینہ بیان کا بھی حوالہ دیا ہے۔

اسی طرح حکومتی مؤقف کے مطابق پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر سے منسوب بیانات میں اسلام آباد کو ’’سومنات‘‘ بنانے اور متعدد حملوں کا ذکر کیا گیا ، حکومت نے ان بیانات کو احتجاج کے دوران ممکنہ کشیدگی کے تناظر میں تشویش کا باعث قرار دیا ہے۔

حکومتی حلقوں نے پی ٹی آئی رہنماؤں اقبال آفریدی اور فضل الٰہی سے منسوب تربیلا ڈیم، ورسک ڈیم اور کرک میں گیس کی فراہمی سے متعلق بیانات پر بھی اعتراض کیا ، حکومت کے مطابق ایسے بیانات اہم قومی تنصیبات اور بنیادی سہولیات سے متعلق حساس معاملات کو سیاسی احتجاج کا حصہ بنانے کے مترادف ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان سے منسوب بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومتی حلقوں نے کہا کہ ملک کو طاقت کے ذریعے بند کرنے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے سے متعلق گفتگو قابلِ تشویش ہے۔

دوسری جانب بعض سیاسی مبصرین نے ماضی کے احتجاجی واقعات، جن میں 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے احتجاجی طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں ، ان مبصرین کے مطابق ماضی میں احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچنے اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے واقعات بھی سامنے آئے تھے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران سیاسی اختلاف کو پرامن اور آئینی دائرے میں رکھنے کی ذمہ داری تمام فریقوں پر عائد ہوتی ہے ، ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں اشتعال انگیز بیانات کے بجائے سیاسی معاملات کو مذاکرات اور قانونی و آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھانا اہم ہے، حکومتی حلقوں نے واضح کیا ہے کہ 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے قانون و امن برقرار رکھنے کے لیے ریاستی ادارے اپنے قانونی فرائض انجام دیں گے۔