اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) سپریم کورٹ نے قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال سے مبینہ غیر قانونی گردوں کی پیوند کاری کے کیس میں گرفتار ڈاکٹر نادر کی ضمانت منظور کرلی ، کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی مریض کو ٹرانسپلانٹ کے لیے مناسب ڈونر دستیاب نہ ہو تو وہ کیا کرے ، ان کا کہنا تھا کہ بعض مریضوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہوتی ہے اور وہ مجبوری کے باعث پیوند کاری کی طرف جاتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا ڈاکٹر کے لیے ہر مریض کا معائنہ کرنے سے پہلے اس کا شناختی کارڈ چیک کرنا ضروری ہے ، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹرز پہلے ہی انتہائی مصروف ہوتے ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ ڈاکٹر کا زیادہ تر کام گردوں کی پیوند کاری سے متعلق تھا ، ان کے مطابق قانونی طریقہ کار کے تحت اگر قریبی رشتہ دار گردہ عطیہ کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو بعض صورتوں میں خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ جنوبی پنجاب سے بھٹہ مزدوروں کو مبینہ طور پر لا کر گردے نکالنے کے الزامات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں ، تفتیشی افسر کے مطابق ڈاکٹر کے موبائل فون کے فرانزک جائزے سے مبینہ طور پر 65 ٹرانسپلانٹ کیسز سے تعلق سامنے آیا ہے۔
تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر کا تحریر کردہ نسخہ بھی تفتیشی ٹیم نے قبضے میں لیا ہے ، ان کے مطابق موجودہ کیس میں ٹرانسپلانٹ کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا، جس پر جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے مذکورہ ٹرانسپلانٹ ہوا ہی نہ ہو۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے کیس کا جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت دینے کی استدعا کی۔ اس پر جسٹس ملک شہزاد نے ماتحت عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد کی جانب اشارہ کیا، جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کا عدالتوں پر اعتماد برقرار ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد ڈاکٹر نادر کی ضمانت منظور کرلی، واضح رہے کہ ایف آئی اے نے چند روز قبل قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال میں کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر نادر سمیت بعض دیگر افراد کو گرفتار کیا تھا ، اس سے قبل ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر شوکت علی بنگش کو بھی ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا ، کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔

