اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے وفد نے کنوینر اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال سمیت خیبرپختونخوا کے حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے وفد کو خیبرپختونخوا کی صورتحال اور اس حوالے سے حکومتی فیصلوں پر اعتماد میں لیا ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کے بہترین مفاد میں یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا، تاہم حکومت نے بھرپور کوشش کی کہ اسے یہ انتہائی قدم نہ اٹھانا پڑے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے کھلے دل سے مذاکرات کیے، لیکن دوسری جانب سے مثبت جواب نہیں ملا ، ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہورہا تھا، جن میں عام شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، جبکہ صوبائی حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھانے میں ناکام رہی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ ملک کی بہتر ہوتی ہوئی معیشت کو نقصان پہنچانے کی سازش تھی ، ملاقات کے دوران ایم کیو ایم کے وفد نے وزیراعظم کو خیبرپختونخوا کے حوالے سے حکومتی فیصلوں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
ایم کیو ایم کے وفد میں وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، سینیٹر خالدہ اتیب، اراکین قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد فاروق ستار، عبدالعلیم خان، سید وسیم حسین، آسیہ اسحاق صدیقی، محمد جاوید حنیف خان اور محمد معین عامر پیرزادہ شامل تھے۔
وفد کے دیگر ارکان میں محمد اقبال خان، حسان صابر، صادق افتخار، ارشد عبداللہ وہرا، سید حفیظ الدین، سید امین الحق، خواجہ اظہار الحسن، احمد سلیم صدیقی، فرحان چشتی، نکہت شکیل خان، سبہین غوری، رانا انصر، صوفیہ سعید شاہ اور سنجے پروانی بھی شامل تھے۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی روابط رانا ثناء اللہ بھی موجود تھے۔

