تہران (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے کہا ہے کہ امریکا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی نظام کے خاتمے کی توقع لگا کر سنگین غلطی کی ، قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ سیاسی امور کے نائب سربراہ یداللہ جوانی کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران کے استحکام اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا درست اندازہ نہیں لگایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکمتِ عملی ایرانی معاشرے کی زمینی حقیقتوں کو مدنظر رکھ کر نہیں بنائی گئی تھی۔ واشنگٹن نے یہ سمجھنے میں غلطی کی کہ سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایران کا نظام کمزور ہوکر بکھر جائے گا ، یداللہ جوانی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت سے پہلے بھی امریکا ایران پر مسلسل دباؤ ڈالتا رہا ہے، تاہم ایرانی قیادت کی ثابت قدمی اور مضبوط ردعمل کے باعث یہ کوششیں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکیں۔
واضح رہے کہ فروری کے آخری روز امریکا اور اسرائیل کے حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، عسکری قیادت اور قومی سلامتی کے مشیر سمیت متعدد اہم شخصیات شہید ہوگئی تھیں۔ اس کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ، رپورٹ کے مطابق امریکی قیادت کا خیال تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کی طاقتور ترین شخصیت اور روحانی پیشوا ہیں، اس لیے ان کی ہلاکت سے عسکری اور عوامی سطح پر حوصلہ کمزور ہوگا اور ملک کا نظام بکھر جائے گا۔
اسرائیل کا مؤقف بھی یہی رہا کہ خامنہ ای کے بعد ایران میں افراتفری پھیل جائے گی، نئی قیادت کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملے گا اور حکومت مخالف مظاہرین پارلیمان سمیت دیگر حکومتی اداروں پر قبضہ کرلیں گے ، تاہم رپورٹ کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کے باوجود ملک میں وہ صورتِ حال پیدا نہیں ہوئی جس کی امریکا اور اسرائیل کو توقع تھی، ایران کی نئی قیادت اس صورتِ حال کو اپنے نظام کی مضبوطی قرار دیتی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ ایرانی نظام اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے کہ کسی ایک شخصیت کی عدم موجودگی میں اس کی جگہ دوسرا شخص ذمہ داریاں سنبھال سکتا ہے۔

