اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آئینی آپشن سیاسی مقاصد کے لیے نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ ملنے پر استعمال کیا، ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، دہشت گردی کے خاتمے تک وہاں رہیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے، یہ صرف خیبرپختونخوا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ بن چکا ہے، دہشت گردی کی موجودگی میں نہ کاروبار چل سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے.
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سے ڈھائی سال کے دوران وفاقی حکومت نے ہر حربہ اور ہر طریقہ آزمایا، خیبرپختونخوا کے دونوں وزرائے اعلیٰ نے جو مانگا انہیں دیا گیا، جب آپ کھل کر دہشت گرد کو دہشت گرد نہ کہیں اور ان کے خلاف بھرپور کارروائی نہ کریں تو اس کے بعد کون سا آپشن باقی رہ جاتا ہے؟
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ہر وہ معاملہ جس پر یہ پہلے کچھ حاصل نہیں کر سکے تھے، وزیراعظم کی ہدایت پر مذاکرات کی میز پر انہیں دیا جا رہا تھا، وزیراعظم نے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں وزیر داخلہ کو کہا تھا کہ یہ سیاسی طور پر جو کچھ مانگتے ہیں انہیں ہر چیز دیں ، وزیر مملکت نے کہا کہ میثاق جمہوریت ٹو کا آغاز ہونے جا رہا تھا لیکن انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی، یہ سیاستدانوں کی ایک اور ناکامی ہے کہ وہ کسی قومی مفاد پر متفق نہیں ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ آئینی آپشن استعمال کیا جو کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے مشکل ہوتا ہے، ہمارا صرف ایک ایجنڈا ہے، کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں اور نہ ہی ہم زیادہ دیر وہاں رہنا چاہتے ہیں، تاہم اس وقت تک وہاں رہیں گے جب تک دہشت گردی ختم نہیں ہو جاتی۔
طلال چوہدری نے واضح کیا کہ جو لوگ مقدمات میں مطلوب ہوں گے انہیں ضرور گرفتار کیا جائے گا یا متعلقہ مقدمات میں رکھا جائے گا، اس کے علاوہ کسی کو حراست میں لینے یا بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مایوسی ہوئی کہ وہاں پتہ بھی نہیں ہلا، بعض اضلاع میں لوگوں کے بچے سکول نہیں جا رہے تھے اور کچھ علاقوں میں راستوں سے گزرنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔
وزیر مملکت نے مزید کہا کہ یہ اقدام نہ خیبرپختونخوا کے خلاف ہے اور نہ ہی پشتونوں کے خلاف، یہ پاکستان کے لیے ہے، آئینی آپشن سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا بلکہ دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ ملنے پر استعمال کیا گیا ہے۔

