JUI leader and Senator Kamran Murtaza Capitalnewspoint.com

پی ڈی ایم دور کی ذمہ داری وزیراعظم اور کابینہ پر بھی عائد ہوتی ہے. کامران مرتضیٰ

اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) جمعیت علمائے اسلام کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ آنے والے چند ہفتے انتہائی اہم ، اے پی سی پائپ لائن میں ہے ، پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ کچھ آپ بھی کریں پھر دوسرے بھی ہمت کریں گے، محمود خان اچکزئی کوئٹہ گئے تھے اور واپس آگئے ہیں، مشاورت ہوگی، نومبر کا مہینہ سیاسی اعتبار سے اہم لگ رہا ہے۔

ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پی ڈی ایم دور کی وارداتیں اگر بتا دیں تو منہ چھپانے کے قابل نہیں رہیں گے، پی ڈی ایم دور میں وزیراعظم کون تھا؟ وزیراعظم اپنی کابینہ کا اجتماعی ذمہ دار ہوتا ہے، وارداتوں کا ذمہ دار اس وقت کا وزیراعظم ہوگا ، معاملہ نیب میں جانا چاہیے تو وزیراعظم اور کابینہ کے خلاف جانا چاہیے، خواجہ صاحب بھی یقیناً موجود ہوں گے جن کو کبھی شرم اور کبھی حیا آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کہہ رہے ہیں گورنر شپ میں مولانا کو حصہ نہ ملنے پر بیانات دیئے جا رہے ہیں، خواجہ صاحب سے پوچھیں آپ کی موجودگی میں ایسی کوئی ڈیمانڈ ہوئی ہے؟ کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ہم فوج کا احترام کرتے ہیں، ہم کبھی ملک سے باہر نہیں جاتے اور اپنے اداروں کے خلاف نہیں جاتے۔ ہم پر الزام ہے کہ مذہب کے نام پر کمائی کرتے ہیں، تو نواز شریف، وزیراعظم اور آصف زرداری مولانا کے پاس کس حصے کیلئے آتے ہیں؟

انہوں نے سوال کیا کہ موجودہ کشمیر کمیٹی کے چیئرپرسن کا نام کسی کو آتا ہے؟ مولانا کی کاوشوں سے کشمیر کاز آسمان پر تھا، آج راولاکوٹ میں آزادی کی بات ہو رہی ہے ، جے یو آئی رہنما نے کہا کہ جنہوں نے جیل بنائی ہے انہوں نے جیل میں جانا ہے، کیسز ان کے وہی دوست فائل کریں گے جن کی گود میں بیٹھے ہیں، ہم کسی مصیبت کو دعوت نہیں دیتے، اگر آگئی تو مقابلہ کریں گے۔