سی ڈی اے افسران کی غفلت لا پرواہی سیکٹر آئی 14 ،15،16، پانی ناپید سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہائشی بنیادی سہولتوں سے محروم

اسلام آباد (نیوز رپورٹر )وفاقی دارالحکومت کہ سیکٹر آئی 14 ،15،16،سی ڈی اے کے افسران کی غفلت لا پرواہی کے باعث شہریوں کے لیے عذاب بن گیا پانی ناپید سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار جبکہ بجلی کے پول تک نہ ہونے کے باعث رہائشی عاجز اگئے، وزیراعظم شہباز شریف کو علاقہ کے مکینوں نے درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سیکٹر ای 14 میں ادھورے ترقیاتی کام ہیں نکاسی آب کا نظام کچھ نہیں ہے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں جبکہ بجلی کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے سی ڈی اے افسران کو بھی بار بار اطلاع دی گئی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی شہریوں کا کہنا ہے،

کہ سیکٹر آئی 14 ،15،16، میں زیادہ تر سرکاری ملازمین رہائش پذیر ہیں 1988 سے 90 تک بننے والے اس سیکٹر میں پانی کی فراہمی کے لیے سی ڈی اے کے پاس کوئی مناسب انتظام نہیں مکینوں کا کہنا ہے کہ وفاقی محتسب اعلی کے احکامات کی روشنی میں سی ڈی اے نے ہفتہ وار 10 سے 15 افراد کے لیے واٹر ٹینک سے صرف نو منٹ پانی فراہم کرتا ہے جو بمشکل سے ایک دن میں بھی پورا نہیں ہوتا جبکہ دوسری جانب قومی اسمبلی میں سی ڈی اے نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ سیکٹر آئی 14 ،15،16،کو واٹر ٹینک سے پانی فراہم کرے گا جو کہ ڈیڑھ منٹ فی یوم سے بھی کم ہے یہ صرف ایک چالبازی کے علاوہ اور کچھ نہیں ان کا کہنا ہے کہ گلیاں اور سڑکیں کھنڈرات بن چکی ہیں نکاسی اپ کا نظام کچھ نہیں کوئی کمرشل مارکیٹ نہیں مرکز کی جگہ ویران پڑی ہے جبکہ چھوٹی مارکیٹیں بھی نہیں بنائی گئی علاقہ کے معززین سی ڈی اے کے دفتر کے چکر لگا لگا کر عاجز ا چکے ہیں افسران نے چپ ساد رکھی ہے انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکٹر ای 14 کے رہائشیوں کا مطالبات پورے کیے جائیں ورنہ علاقہ کے مکین ض سی ڈی اے کے دفتر کے باہر احتجاج پر مجبور ہوں گے جبکہ وزیراعظم اس بات کا نوٹس لے کر چیئرمین سی ڈی اے کو احکامات جاری کریں تاکہ علاقہ کے مکینوں کے مسائل حل ہو سکیں.