1.3 ارب روپے کی ریکوری کا معاملہ گرم، پی اے سی میں سخت سوالات

اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر طارق فضل چوہدری کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزارت اوورسیز پاکستانیز سے متعلق سال 2000-01 سے 2019-20 تک کے مختلف آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) میں ڈیفالٹنگ ایمپلائرز سے 1.3 ارب روپے کی ریکوری نہ کیے جانے سے متعلق آڈٹ پیرا بھی زیر بحث آیا۔ سیکرٹری اوورسیز پاکستانیوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس معاملے پر فالو اپ کو مزید تیز کردیا گیا ہے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ اب تک ریکور کی گئی رقوم کی حد تک معاملہ نمٹا دیا جائے جبکہ باقی ریکوری کے عمل کو بھی جلد مکمل کیا جائے۔ آڈٹ حکام نے نشاندہی کی کہ زیادہ تر آڈٹ پیراز “بیڈ انویسٹمنٹ” سے متعلق ہیں اور سوال اٹھایا کہ ان سرمایہ کاریوں میں کسی کی ذمہ داری فکس کی گئی یا نہیں ، اجلاس میں سرمایہ کاری کے موجودہ میکنزم پر بھی سوالات اٹھائے گئے اور آڈٹ حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی کے معاملات ضرور ہیں لیکن وہ آج بھی رپورٹ میں نمایاں کیے جائیں گے۔

کنوینر پی اے سی ذیلی کمیٹی طارق فضل چوہدری نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں دنیا بھر سے وفود نے شرکت کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ایسے اقدامات اور معاہدوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے یا نہیں، اوورسیز پاکستانی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ شفافیت اور نظام کی بہتری کے لیے طریقہ کار کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، جبکہ مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے آزاد تھرڈ پارٹی رپورٹس کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔