اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں نبوی اخلاقیات اور طبی رویوں پر ایک روزہ قومی سیرت کانفرنس منعقد ہوئی۔مقررین نے نبوی اخلاقیات کی تعلیمات اور طب نبوی کے عملی پہلوئوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلیمات نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی صحت اور معاشرتی بھلائی کے لیے بھی نہایت اہم ہیں انہوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ کے بتائے گئے اصول ہمارے روزمرہ کے طبی رویوں اور صحت مند عادات میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں جو جدید دور کے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔
اس اہم علمی کانفرنس کا اہتمام کلیہ عربی و علوم اسلامیہ کے شعبہ سیرت سٹڈیز نے پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے تعاون سے کیا تھا اور یہ کانفرنس یونیورسٹی میں جاری علمی و فکری تقریبات کی ایک اہم کڑی تھی جس نے طلبہ اور اساتذہ میں شعور اور آگاہی کے نئے راستے کھول دیئے کانفرنس میں چار جامعات کے سربراہان، ممتاز اساتذہ، ڈاکٹرز اور محققین نے شرکت کی۔شفا تعمیر ملت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقبال خان نے پینل ڈسکشن کی صدارت کی جبکہ بحریہ یونیوسٹی کے سابق پرووائس چانسلر میجر جنرل پروفیسر ڈاکٹر نجم الثاقب ہلال امتیاز پہلے سیشن کے مہمان خصوصی تھے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیرت طیبہ کی روشنی میں طبی شعبے کے لئے اخلاقیات کی رہنمائی ناگزیر ہے انہوں نے کہا کہ میڈیکل تعلیم میں روحانی و اخلاقی اقدار کو شامل کیے بغیر طب کو حقیقی معنوں میں شفا کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔کلیدی خطاب میں رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ تمام شعبہ ہائے زندگی، خصوصاً طب کے لئے ابدی رہنمائی فراہم کرتی ہے انہوں نے زور دیا کہ معالجین کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو عبادت کا درجہ دیتے ہوئے مریضوں کی خدمت کرنی چاہیے۔اوپن یونیورسٹی کے کلیہ عربی و علوم اسلامیہ کے ڈین، پروفیسر ڈاکٹر محی الدین ہاشمی نے کہا کہ طبی اخلاقیات کی اصل بنیاد سیرت النبی ﷺ ہے اور معالج اگر اس سے رہنمائی لے تو اس کا ہر عمل عبادت میں ڈھل سکتا ہے۔
کانفرنس میں سفارش کی گئی کہ میڈیکل اداروں میں اخلاقی و روحانی پہلوئوں کو شامل کیا جائے، مریضوں کی عزت اور وقت کا خیال رکھا جائے، بلاجواز مالی بوجھ نہ ڈالا جائے اور ڈاکٹرز و علمامشترکہ طور پر کردار ادا کریں۔شرکا نے غزہ میں جاری مظالم اور طبی عملے کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کیا اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی۔

