اسلام آباد ( سپیشل رپورٹر) پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی فائونڈیشن کے ایم ڈی محمد شاہد حسین نے پشاور میں واقع اپنے بڑے رہائشی منصوبے پی ایچ اے ایف پشاور ریذیڈنشیا پر تیز رفتار ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ منصوبے کو حکومت پاکستان اور حکومت خیبرپختونخوا کے مشترکہ تعاون سے عملی شکل دی جارہی ہے ۔ پی ایچ اے ایف ریذیڈنشیا پشاور کا پراجیکٹ ایسی جگہ پر ہے جہاں سیلاب کا کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ دیگر ہائوسنگ سکیموں میں سیلاب کے خطرات موجود ہیں۔ محمد شاہد حسین نے کہا کہ ہم پلاٹ کی قیمت میں لوگوں کو گرے سٹرکچر ہائوسنگ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ایک کنال اور دس مرلے کے پلاٹ ہیں‘ آٹھ مرلے اور پانچ مرلے کے پلاٹ بھی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کیپیٹل نیوز پوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ میں تیرہ ہزار سے زائد ہائوسنگ یونٹ بنیں گے۔جن میں گرے اسٹرکچر ہائوسنگ یونٹس کے ساتھ ساتھ اپارٹمنٹس بھی شامل ہوں گے۔ اس منصوبے کا لے آئوٹ پلان نیسپاک سے بنوایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ٹھیکیدار موقع پر کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا یہ پراجیکٹ تین سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا اس سوسائٹی میں سکول‘ کالجز ‘ ہسپتال اور پلے گرائونڈ بھی بنائے جائیں گے تاکہ عوام کو تمام بنیادی سہولیات یہاں پر ہی مل سکیں۔ اس پراجیکٹ میں زمین ہمیں کے پی کے حکومت نے دی ہے اور پراجیکٹ ہم تیار کررہے ہیں۔ اس میں فیڈرل گورنمنٹ اپمپلائز کے لئے بھی کوٹہ ہے اور جنرل پبلک بھی اس میں اپلائی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ابھی تک ہمارے پاس آٹھ سو لوگ رجسٹرڈ ہیں جنہوں نے درخواستیں دی تھیں اور مزید لوگ بھی رجسٹرڈ ہو کر پلاٹ اور اپارٹمنٹس لے سکتے ہیں۔
پی ایچ اے ایف اور خیبرپختونخواہ ہائوسنگ اتھارٹی کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت منصوبے کے بنیادی ڈھانچے بشمول بائونڈری وال‘ مین بلیوارڈ اور مرکزی گیٹ کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ منصوبے کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے ایک مستقل پولیس اسٹیشن بھی قائم کردیا گیا ہے۔ منصوبے کی لوکیشن پشاور کے کوہاٹ روڈ پر شہر سے تقریباً پندرہ کلومیٹڑ کے فاصلے پر واقع ہے۔ رہائشی یونٹس کو کیٹیگریI,II,IIIاور IV میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ منصوبے کو چار مراحل میں مکمل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں 885 یونٹس تعمیر کئے جارہے ہیں جن میں سے چار سو یونٹس کے معاہدے مکمل ہوچکے ہیں۔
بھاری مشینری بھی منصوبے کی سائٹ پر پہنچا دی گئی ہے اور کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔ پی ایچ اے ایف نے منصوبے کے الاٹیز اور ممبران سے اپیل کی ہے کہ وہ تین سالہ اقساط کے پلان کے تحت اپنی ادائیگیاں بروقت مکمل کریں تاکہ تعمیراتی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھی جاسکیں اور منصوبہ وقت پر مکمل ہو۔ ایک سوال کے جواب میں محمد شاہد حسین نے بتایا کہ پشاور ریذیڈنشیا آٹھ ہزار کنال پر مشتمل منصوبہ ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کریں اس حوالے سے ہم نے درخواست گزاروں کو جنہوں نے ہمیں ممبر شپ کے لئے درخواستیں دی ہیں وہ اپنی اپنی قسطیں بھی جمع کروائیں تاکہ تعمیراتی کام جلد از جلد مکمل کیا جاسکے۔

