اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) وزارتِ بحری امور نے پورٹ قاسم پر چینی اور سیمنٹ کی اُترائی کے عمل کو منظم اور تیز تر بنانے کے لیے اہم اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب حالیہ رپورٹس میں بندرگاہ پر چینی کی سست رفتار اُترائی کے باعث رش اور تاخیر کی شکایات سامنے آئیں وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں بندرگاہ کی صورتحال اور اس کی برآمدی سرگرمیوں، خصوصاً سیمنٹ اور کلنکر کی ترسیل پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری بحری امور سید ظفر علی شاہ، سیکریٹری تجارت جواد پال، چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی ریئر ایڈمرل (ر) سید معظم الیاس، قائم مقام چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل عتیق الرحمان، سی ای او ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان سید رفیع بشیر شاہ، ٹیکنیکل ایڈوائزر (بحری امور) کموڈور (ر) محمد جواد اختر اور سیمنٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے عارف حبیب سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری لانا ناگزیر ہے تاکہ سامان کی بروقت اور مؤثر اُترائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں پر رش اور تاخیر نہ صرف لاگت میں اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ سپلائی چین کے تسلسل کو بھی متاثر کرتی ہے، اس لیے آپریشنل استعداد میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے اجلاس میں بتایا گیا کہ چینی کی اُترائی بندرگاہ کی اصل صلاحیت سے کم کی جارہی ہے۔ وزیر بحری امور نے پورٹ قاسم اتھارٹی کو ہدایت کی کہ روزانہ چار سے ساڑھے چار ہزار ٹن تک چینی کی اُترائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بندرگاہ پر رش کی صورتحال سے بچا جا سکے اجلاس میں وزیراعظم آفس کی ہدایات پر عمل درآمد کے سلسلے میں جائزہ لیا گیا کہ کیسے کراچی کی بندرگاہوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے 60 فیصد تک چینی کی درآمدات گوادر پورٹ کے ذریعے منتقل کی جائیں مزید یہ طے پایا کہ پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ پر جہازوں کی برتھنگ “پہلے آؤ، پہلے پاؤ” کی بنیاد پر کی جائے گی۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ہدایت کی گئی کہ وہ جہازوں کے شیڈول اور بندرگاہی انتظامیہ سے بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنائے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر نہ ہو۔
اجلاس میں بندرگاہی اداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ برتھنگ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کریں، کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی کریں اور غیرضروری تاخیر پر جرمانے عائد کیے جائیں وفاقی وزیر نے متعلقہ اداروں بشمول ٹی سی پی اور دیگر سرکاری درآمد کنندگان کو ہدایت کی کہ وہ کارگو منصوبہ بندی سے وزارتِ بحری امور کو وقت پر آگاہ کریں تاکہ بندرگاہوں پر رش یا آپریشنل خلل پیدا نہ ہو آخر میں جنید انور چوہدری نے تمام شرکاء کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ طے شدہ اقدامات پر مسلسل عمل درآمد اور کارکردگی کے معیار کی پابندی سے بندرگاہوں کی استعداد کار میں اضافہ اور قومی سپلائی چین کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

