اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)راولپنڈی،اسلام آباد،آزاد کشمیر سمیت ملک بھرمیں اوورسیز پروموٹرز نے بے روزگار نوجوانوں کو بیرون ممالک بجھوانے کا جھانسہ دے کر لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے ۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ پروموٹرز نوجوان طبقے سے کبھی میڈیکل اور کبھی پروٹیکٹر کے نام پر اب تک کروڑوں روپے اینٹ چکا ہے ۔پروموٹرز کے اس دھندے میں ایف آئی اے اہلکار ،ہیومن ٹریفکنگ سیل بھی ملوث ہے جو باقاعدہ طور پر روزانہ اور منتھلی سطح پر نذرانے وصول کرنے میں مصروف ہیں ۔
کیپیٹل نیوز پوائنٹ کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ راولپنڈی ڈویژن اتک جہلم چکوال آزاد کشمیر میں مختلف اوورسیز پروموٹرز مشتہر کرکے بیرون ملک نوجوری دلوانے کے لئے ہزاروں نوجوانوں کا ٹیسٹ انٹرویو لینے کے لئے ہزاروں نوجوانوں سے فی کس دو ہزار جبکہ میڈیکل کروانے کے لئے قطر ویزہ سینٹر سے میڈیکل ڈیٹ دلوانے کی فی کس بیس ہزار وصول کئے جاتے ہیں اوصاف کو میڈیکل کروانے والے نوجوانوں خالد‘ شکیل‘ آصف‘ عدنان‘ شفیق نے بتایا کہ انہوں نے قطر کے لئے قطر ویزہ سینٹر اور تاشیر (TASHEER) سینٹر میں میڈیکل کے حوالے سے درخواست دی ایجنٹ نے کہا کہ آپ کا ویزہ لگ جائے گا آپ فیس ادا کرو ہم نے انہیں فیس ادا کردی اب میڈیکل کے لئے قطر ویزہ سنٹر آئےہمیں بتایا گیاکہ آپ ہماری ویب سائٹ دیکھیں وہاں آپ کا نام بھی آجائے گا۔
آج چار ماہ بعد گزر جانے کے بعد بھی ہمارا نمبر نہیں آیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ میڈیکل کے لئے انہوں نے ہم سے دوبارہ تیرہ ہزار روپے وصول کئے ان کا کہن اتھا کہ زیادہ تر نوجوانوں کو میڈیکل میں فیل کردیا جاتا ہے تاکہ ان سے میڈیکل کے نام پر دوبارہ 20 سے 25 ہزار روپے پاس کروانے کے وصول کئے جاتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ قطر کی جانب سے دو سو ویزے اوورسیز پروموٹرز کو ملتے ہیں جبکہ یہ ہزاروں لوگوں سے فی کس دو ہزار سے پانچ ہزار روپے ٹیسٹ انٹرویو کے نام پر وصول کرتے ہیں جبکہ ایف آئی اے ہیومن ٹریفکنگ بھی اس سارے دھندے میں ملوث ہے اوصاف کی تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹریول ایجنسی کے ایجنٹوں کا پروٹیکٹر آفس راولپنڈی میں بھی لائن ہے جو فی کس دو سے پانچ ہزار روپے لے کر پروٹیکر کرواتے ہیں وزارت اوورسیز کے ماتحت ادارے پروٹیکٹر آفس راولپنڈی میں تحقیقات افسران و عملہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں جو کہ وزارت اوورسیز اور ایف آئی اے حکام کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ڈائریکٹر پروٹیکٹر آفس فرخ جمال سے جب اوصاف نے رابطہ کیا تو پتہ چلا کے صاحب مصروف ہیں جبکہ ایف آئی اے ہیومن ٹریفکنگ سیل رابطہ کیاگیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی آنکھیں کھلی ہیں ایف آئی اے کئی کیخلاف کارروائی کرچکا ہے اگر آئندہ بھی نشاندہی ہوئی تو ہم بھرپور کارروائی کریں گے۔

