وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی زیرِ صدارت وزیرِ اعظم کی ٹاسک فورس برائے آبی قلت کا اجلاس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے آج اسلام آباد میں وزیرِ اعظم کی ٹاسک فورس برائے آبی قلت اور اس کے ربیع و خریف فصلوں پر اثرات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی اجلاس میں وزارتِ آبی وسائل، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزارتِ منصوبہ بندی، واپڈا، صوبائی محکمہ جاتِ آبپاشی اور آبی وسائل کے انتظامی اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں آنے والے ربیع اور خریف سیزن کے لیے موجودہ اور متوقع آبی دستیابی کے منظرناموں پر تفصیلی غور اور بھارت سے آنے والے آبی بہاؤ کے تازہ ترین اعداد و شمار اور گزشتہ چند سالوں میں ان کے تغیرات کا بھی جائزہ لیا گیا زیرِ زمین پانی کی تیز رفتار کمی اور اس کے قومی غذائی تحفظ و زرعی پیداوار پر اثرات پر بھی زیرِ بحث رہے اجلاس میں پانی کی زیادہ منصفانہ اور مؤثر تقسیم کے لیے مختلف پالیسی آپشنز اور بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ دینے، آبی وسائل کے بہتر انتظام، مانیٹرنگ اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر بھی زور دیا گیا۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو پانی کی تقسیم کے معاملے میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے تمام علاقوں کو ان کا جائز اور طے شدہ پانی کا حصہ فراہم کیا جانا چاہیے، جیسا کہ قومی فریم ورک اور منصوبوں میں طے کیا گیا ہے وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی، بین الصوبائی تعاون، اور پائیدار انتظامی حکمتِ عملیوں کے ذریعے زرعی معیشت کے تحفظ اور طویل مدتی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے