پاکستان میں ICAST 2025 کی تاریخی میزبانی خلا ئی سائنس و ٹیکنالوجی کے عالمی ماہرین کا اجتماع، ملک کی سائنسی ترقی کا بڑا سنگِ میل

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان نے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی (IST) میں انٹرنیشنل کانفرنس آن ایپلیکیشنز آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ICAST 2025) کی شاندار میزبانی کرتے ہوئے سائنسی و تکنیکی ترقی کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔ IST اور سپارکو کے مشترکہ تعاون سے منعقد ہونے والی تین روزہ اس عالمی کانفرنس میں 25 ممالک سے ماہرین، محققین اور انڈسٹری پروفیشنلز نے شرکت کی۔
اس سال کی کانفرنس میں 75 سے زائد بین الاقوامی خلائی سائنسدانوں، 2,000 سے زیادہ شرکاء اور عالمی اداروں کے متعدد نمائندوں کی شرکت نے پاکستان کی عالمی خلائی برادری میں بڑھتی ہوئی ساکھ کو نمایاں کیا۔
ICAST 2025 میں پاکستان کی سائنسی صلاحیت کا مؤثر مظاہرہ کیا گیا جس کے تحت:

10 خصوصی موضوعاتی شعبے
60 ریسرچ پریزنٹیشن سیشن
16 ممالک سے 200 سے زائد تحقیقی مقالے
13 انڈسٹری سے متعلق اسپیس ایپلیکیشن ورکشاپس
21 ممالک کے عالمی ماہرین کی قیادت میں 6 تھیمیٹک پلینری سیشن
منعقد کیے گئے۔

کانفرنس میں سیٹلائٹ انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، ریموٹ سینسنگ، خلائی ٹیکنالوجی کے صنعتی استعمال، موسمیاتی حل اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز پر جامع گفتگو ہوئی۔
IST نے مقامی طور پر تیار کردہ خلائی ٹیکنالوجیز اور تحقیقی جدتوں کی نمائش بھی کی، جو سائنسی ترقی کو معاشرے کی خدمت کے لیے بروئے کار لانے کے پاکستان کے عزم کا واضح اظہار تھا۔
کانفرنس کے تیسرے اور آخری روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اپنے اختتامی خطاب میں انہوں نے IST، سپارکو اور بین الاقوامی علمی برادری کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا:”ICAST 2025 پاکستان کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کو علم پر مبنی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مضبوط قوم بنایا جائے۔ خلائی سائنس قومی ترقی، صنعتی جدت اور مستقبل کی معاشی مسابقت کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔”

انہوں نے عالمی اشتراک اور خلائی ٹیکنالوجیز میں شراکت داری کو مستقبل کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
کانفرنس میں 25 ممالک کے مندوبین کی فعال شرکت نے مشترکہ خلائی تحقیق، صنعت کے ساتھ شراکت، تکنیکی و علمی تعاون، مشترکہ تعلیمی پروگرامز اور پاکستان کے خلائی شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول دیےکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) کے چیئرمین زبیر موتی والا بھی کانفرنس میں شریک ہوئے اور IST کی اسپیس ٹیکنالوجیز کو پاکستان کی صنعتی ترقی کے لیے انتہائی فائدہ مند قرار دیا۔
ICAST 2025 نے پاکستان کو عالمی خلائی تحقیق اور جدت کے ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر نمایاں کیا۔ یہ کانفرنس نہ صرف پاکستان کے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کا باعث بنی بلکہ ملکی سائنسی و تکنیکی صلاحیتوں کو بھی دنیا کے سامنے اجاگر کیا، جو مستقبل میں خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں مزید پیش رفت کا راستہ ہموار کرے گی کانفرنس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ عالمی سائنسی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور مقامی و عالمی چیلنجز کے لیے جدید حل تلاش کیے جائیں گے۔