وزیر مملکت طلال چوہدری کی شمالی وزیرستان میں دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے شمالی وزیرستان میں پیش آنے والے ایک اور دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس افسوسناک حملے میں اسسٹنٹ کمشنر وزیرستان شہید ہو گئے ہیں جبکہ ان کے ساتھ دیگر سرکاری اہلکار اور ایک راہگیر بھی شہادت پا گئے ہیں۔اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ خوارج مسلسل ہمسایہ ملک سے آ کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں جنہیں ہم سب نے متحد ہو کر روکنا ہے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے اور ہر شخص کو اپنا فرض ادا کرنا ہے۔طلال چوہدری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے سخت سوالات کرتے ہوئے کہا کہ کیا اسسٹنٹ کمشنر کی شہادت پر جانا ضروری تھا یا اڈیالہ جیل آنا زیادہ ضروری تھا؟ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ کے دور میں کئی دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں، مگر یہ معلوم نہیں کہ وزیراعلیٰ اب تک کتنے شہداء کے گھروں میں تعزیت کے لیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشت گردوں کے خلاف کھڑے ہونا ضروری ہے یا سیاسی سٹنٹ بازی، شہداء کے ساتھ یکجہتی دکھانا فرض ہے یا محض احتجاج اور ملاقاتوں کا ڈرامہ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے سب سے بڑے عہدیدار کو گویا کوئی فکر ہی نہیں، حالانکہ وہ افسران شہید ہو رہے ہیں جو براہ راست وزیراعلیٰ کے ماتحت ہیں وزیر مملکت نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ راتیں سڑکوں پر گزارنے اور سیاسی شعبدہ بازی کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ صوبہ دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون میں دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق خیبرپختونخوا کے وسائل دہشت گردی کے خلاف استعمال کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، نہ کہ انہیں سیاسی سرگرمیوں میں ضائع ہونے دیا جائے گا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی اور عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔