پاکستان نے جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک خیبر پختونخوا کو 5,867 ارب روپے منتقل کیے.وزارت خزانہ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وزارت خزانہ نے کہا ہ کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک قابلِ تقسیم محاصل میں سے خیبر پختونخوا کو مجموعی طور پر 5,867 ارب روپے منتقل کیے گئے جو وفاق کی جانب سے صوبے کے مالی حقوق کی بروقت اور مستقل ادائیگی کا واضح ثبوت ہے،اسی مدت کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں 705 ارب روپے کی اضافی رقم بھی فراہم کی گئی تاکہ صوبے کو امن و امان، بحالی، سکیورٹی ، سماجی اور معاشی نقصانات کے ازالے میں معاونت دی جا سکے، یہ وسائل قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت اور وفاقی.حکومت کے خصوصی اقدامات کے ذریعے منتقل کیے گئے ، ہفتے کو وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے این ایف سی اور اضافی وفاقی معاونت کے تحت خیبر پختونخوا کو بروقت اور تسلسل کے ساتھ فنڈز کی منتقلی یقینی بنا رہی ہے ۔حکومتِ پاکستان کی جانب سے وزارتِ خزانہ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اور اس سے بڑھ کر صوبہ خیبر پختونخوا کو بروقت، شفاف اور تسلسل کے ساتھ مالی وسائل کی منتقلی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ یہ اقدام وفاق کے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ صوبائی ترقی، مالی استحکام اور تنازعات کے بعد بحالی کے عمل میں صوبے کی مکمل معاونت کی جائے۔ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی قابلِ تقسیم محاصل میں خیبر پختونخوا کا حصہ 14.62 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ ( وار آن ٹیرر ازم ) کے دوران صوبے پر پڑنے والے غیر معمولی بوجھ کے اعتراف کے طور پر غیر منقسم قابلِ تقسیم محاصل میں سے اضافی 1 فیصد حصہ خصوصی طور پر خیبر پختونخوا کے لیے مختص کیا گیا۔ اگرچہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ اصل طور پر پانچ سال کے لیے وضع کیا گیا تھا، تاہم آٹھویں، نویں اور دسویں این ایف سی ایوارڈز پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باعث ساتویں این ایف سی ایوارڈ کا فریم ورک تاحال نافذ العمل ہے۔ اس کے مطابق خیبر پختونخوا کو اپنا واجب الادا حصہ بشمول دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اضافی الاٹمنٹ، مسلسل موصول ہو رہا ہے۔وفاقی حکومت صوبائی این ایف سی حصص کی ادائیگی 15 روزہ بنیادوں پر کرتی ہے اور اس ضمن میں کوئی بقایا جات موجود نہیں۔ حال ہی میں (17 دسمبر 2025 کو)حکومتِ خیبر پختونخوا کو 46.44 ارب روپے جاری کیے گئے جو بروقت ادائیگی کے وفاقی عزم کا واضح ثبوت ہے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت منتقلیاں جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک قابلِ تقسیم محاصل میں سے خیبر پختونخوا کو مجموعی طور پر 5,867 ارب روپے منتقل کیے گئے۔اسی مدت کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں بھی 705 ارب روپے فراہم کیے گئے جو صوبے کی قربانیوں اور ذمہ داریوں کے اعتراف کا مظہر ہے۔این ایف سی کے علاوہ وفاقی حکومت نے براہِ راست منتقلیوں کا سلسلہ بھی بلا تعطل جاری رکھا ہے۔ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک تیل و گیس کی رائلٹیز، گیس ڈویلپمنٹ سرچارج، قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر متعلقہ مدات کے تحت 482.78 ارب روپے منتقل کیے گئے۔

این ایف سی سے ہٹ کر اضافی وفاقی معاونت بھی فراہم کی گئی ۔خیبر پختونخوا کو درپیش مالی اور انتظامی چیلنجز کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے این ایف سی فریم ورک سے بڑھ کر بھی نمایاں مالی معاونت فراہم کی ہے۔ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور نئے این ایف سی فارمولے کی عدم موجودگی کے باعث وفاقی حکومت اپنے این ایف سی حصے سے نئے ضم شدہ اضلاع کے اخراجات برداشت کر رہی ہے،2019 سے اب تک این ایم ڈیز کے لیے حکومتِ خیبر پختونخوا کو 704 ارب روپے منتقل کیے گئے۔داخلی طور پر بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کی معاونت کے لیے مختلف ادوار میں 117.166 ارب روپے فراہم کیے گئے،تفویض شدہ اخراجات اور وفاقی پروگرامز کے تحت آئینی تفویض کے باوجود وفاقی حکومت صوبائی فلاح و ترقی میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے گزشتہ پندرہ برسوں میں وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت صوبائی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 115 ارب روپے مختص کیے گئے۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مالی سال 2016 سے 2025 تک خیبر پختونخوا میں 481.433 ارب روپے بلا مشروط اور مشروط نقد امداد کی صورت میں خرچ کیے گئے جس سے کمزور گھرانوں کو اہم سماجی تحفظ فراہم ہوا۔گیارہویں این ایف سی ایوارڈ پر پیش رفت ،وفاقی حکومت این ایف سی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے جامع مشاورت کے عزم پر قائم ہے۔ گیارہواں این ایف سی ایوارڈ 22 اگست 2025 کو صدرِ پاکستان نے تشکیل دیا جبکہ اس کا پہلا اجلاس 4 دسمبر 2025 کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں سابقہ فاٹا/نئے ضم شدہ اضلاع کے انضمام اور قابلِ تقسیم محاصل میں ان کے حصے سے متعلق سفارشات کے لیے ایک خصوصی ذیلی گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

حکومتِ خیبر پختونخوا کی درخواست پر اس ذیلی گروپ کا پہلا اجلاس 23 دسمبر 2025 کو منعقد ہوگا جس کی سربراہی وزیرِ خزانہ خیبر پختونخوا بطور کنوینر کریں گے، یہ اقدام باہمی تعاون اور شفافیت کے ذریعے بقایا مالی امور کے حل کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔وزارتِ خزانہ اس امر کا اعادہ کرتی ہے کہ وفاقی حکومت منصفانہ وسائل کی تقسیم، مالی وفاقیت اور صوبہ خیبر پختونخوا کی مسلسل معاونت کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے، تاکہ سلامتی کے چیلنجز، بے دخلی اور انتظامی انضمام سے جنم لینے والی صوبائی ضروریات کو بروقت اور ذمہ دارانہ انداز میں پورا کیا جا سکے۔