اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سینیٹر پلوشہ خان نے وفاقی وزیر کے خلاف سینیٹ میں تحریکِ استحقاق جمع کرا دی۔ ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ ایوان کے تقدس اور منتخب نمائندوں کے حقِ سوال کا معاملہ ہے سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ اگر منتخب نمائندے سوال نہیں کر سکتے تو پھر پارلیمنٹ کا کردار کیا رہ جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ روش تبدیل نہ ہوئی تو پورا ایوان یرغمال بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ مفادات کے عادی ہو جاتے ہیں، وہ ہر سوال کے پیچھے سازش تلاش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی سال قبل انہوں نے ایوان میں ایک سوال اٹھایا تھا جس کا آج تک جواب نہیں دیا گیا۔ یہ سوال ایک سڑک کی تعمیر سے متعلق تھا جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بن رہی تھی۔ ان کا سوال تھا کہ آیا وہ سڑک عوام کے لیے ہے یا کسی مخصوص ہاؤسنگ سوسائٹی کے فائدے کے لیے سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ اگر اس سوال پر کسی کو غصہ آتا ہے تو مسئلہ سوال میں نہیں بلکہ جواب میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک سوال کے بعد کئی مزید سوال جنم لے رہے ہیں اور ایوان کو ان کے جوابات ملنے چاہییں۔

