Iran Rejects U.S. Pressure, Says Protests Were Hijacked by Foreign‑Backed Violent Elements: Iranian Ambassador

امریکی دھونس دھاندلی تسلیم نہیں ہمارے دوست جیسے ہمیں سپورٹ کرنا چاہیں کریں مگر ہم کسی کے پاس نہیں جائیں گے . ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر )پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ہمارے میڈیا نے 12 روزہ جنگ کے بعد ہمارے خلاف ہونے والی سازش کو بے نقاب کیا،ایرانی حکومت نے مارکیٹ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہویے افراط زر میں کمی کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں،28 دسمبر کو غیرملکی کرنسی کی قدر میں اضافہ کے بعد پرامن مظاہرے شروع ہوئے،امریکی صدر کے بیان کے بعدپرامن مظاہرے متشدد سرگرمیوں میں بدل گیے،اس تشدد میں عوامی و حکومتی املاک اور جانوں کو نشانہ بنایا گیا،عوامی املاک، تھانوں اور مساجد کو جلایا گیا،ان پرتشدد کاروائیوں کا پرامن مظاہرین سے تعلق نہیں تھا،پرتشدد سرگرمیوں میں جدید اسلحے سمیت ہر طرح کے ہتھیار استعمال کئے گئے ،اب بھی امریکہ نے اس خطے میں بھاری طاقت جمع کر لی ہے،چند ماہ قبل بھی جب ہم مذاکرات کر رہے تھے، مذاکرات کے وسط میں ہم پر حملہ کیا گیا،جب تک فریقین تیار نہ ہوں تب تک کوئی ثالث ان کو میز پر نہیں لا سکتا،ہم پاکستان سمیت کسی ملک سے اپنی حمایت میں جنگ میں کودنے کا مطالبہ نہیں کرتے .

جمعرات کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے ہم امریکی دھونس دھاندلی کو تسلیم نہیں کریں ،ہم پاکستان کی ابھی تک حمایت اور جنگ روکنے کی کوششوں پر مشکور ہیں،امید ہے کہ ابھی بھی جنگ نہیں ہوگی اگر مارکو روبیو نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایران اور وینزویلا میں فرق ہے تو یہ اچھی بات ہے، ایرانی سفیر نے کہا کہ بریفنگ ایران کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے دی جا رہی ہے،بریفنگ سے قبل ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں اور مظاہروں کی آڑ میں تخریب کاری پر دستاویزی ویڈیو چلائی گئی،دستاویزی ویڈیو میں شر پسند عناصر کو احتجاج کو ہائی جیک کرتے اور تخریبی سرگرمیوں میں بدلتے دکھایا گیا ہے۔ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ہمارے میڈیا نے 12 روزہ جنگ کے بعد ہمارے خلاف ہونے والی سازش کو بے نقاب کیا،ایرانی حکومت نے مارکیٹ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہویے افراط زر میں کمی کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں،28 دسمبر کو غیرملکی کرنسی کی قدر میں اضافہ کے بعد پرامن مظاہرے شروع ہوئے،سپریم لیڈر نے بھی احتجاجی مظاہرین کے مسائل کو حل کرنے کی ہدایت کی ،مرکزی و صوبائی حکومتوں نے تہران اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرین سے مذاکرات کیے،امریکہ و اسرائیل نے ان مظاہروں کو دوسرا رنگ دینے کی کوششیں کیں،مظاہرین کا مطالبہ مارکیٹ میں استحکام لانے اور امدادی اقدامات لینے کا تھا،اس وقت تک مظاہرین نے رہبر سپریم راہنما کی تصاویر اور ایرانی پرچم اٹھا رکھے تھے،اس احتجاج کو ہمارے میڈیا نے کور کیا اور انتطامیہ نے بھی مظاہرین سے رابطے کیے.

اعلی ایرانی حکام نے عوام کے احتجاج کے حق کو تسلیم کیا، ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ ان پرامن مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیا،سپریم لیڈر نے بھی احتجاجی مظاہرین کے مسائل کو حل کرنے کی ہدایت کی،پہلی مرتبہ یہ ہوا کہ ایرانی مظاہرین کے نمائندوں کو کابینہ اجلاس میں مدعو کیا گیا،کابینہ اجلاس میں ان کے مسائل کے حل پر بات چیت کی گئی،31 دسمبر کو صیہونی اسرائیلی وزیر اعظم کا مظاہروں پر بیان سامنے ایا،اسی اسرائیلی وزیراعظم نے چند ماہ قبل ایرانی عوام کا قتل عام کیا تھا،دو جنوری کو امریکی صدر کا بیان سامنے ایا کہ ہم مداخلت کو تیار ہیں ،جو مظاہرین کو اشارہ تھا،پھر مائیک ہومپئیو کا ٹویٹ سامنے آیا جس میں اس نے مظاہرین اور موساد کے تعلق کا اعتراف کیا،اس کے بعد پرامن مظاہرے متشدد سرگرمیوں میں بدل گیے،اس تشدد میں عوامی و حکومتی املاک اور جانوں کو نشانہ بنایا گیا،عوامی املاک، تھانوں اور مساجد کو جلایا گیا،ان پرتشدد کاروائیوں کا پرامن مظاہرین سے تعلق نہیں تھا،پرتشدد سرگرمیوں میں جدید اسلحے سمیت ہر طرح کے ہتھیار استعمال کئے گئے،سپریم راہنما نے قم میں خطاب کے دوران امریکی و اسرائیلی سازشوں کو بیان کیا،آیت اللہ خامنائی نے مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیتے مذاکرات کی ہدایت کی،اس کے بعد مظاہرین کی تشفی تسلی کےاقدامات کئے گیےتاہم 8 جنوری کو مظاہرین اور متشدد عناصر نے شرپسندی شروع کی۔

ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ ایران سے باہر مغربی سرپرستی میں مختلف چینلز نے اشتعال انگیزی اور مظاہرین کو ہتھیاروں کے استعمال پر اکسایا۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ 9 جنوری کو حکومت اور مملکت ایران کے لوگوں نے بڑے اجتماعات حکومت کی حمایت میں منعقد کیے،امریکی صدر نے پھر ٹویٹ کیا کہ مدد آ رہی ہے شرپسند حکومتی و انتظامی دفاتر پر قبضہ کر لیں،انہیں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی ہدایت بھی کی گئی،جس کے بعد بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس پر حملے ہوئے۔2497 سے زائد سیکیورٹی فورسز ، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو شہید کیا گیاجبکہ 690 دہشت گرد مارے گئے،پرتشدد اور دہشت گردانہ حملوں میں 305 ایمبولینسز اور بسیں، 24 گیس اسٹیشنز تباہ کردئیے گئے،دہشت گردانہ کارروائیوں میں 700 کنوینینس اسٹورز، 300 نجی مکانات اور 750 بینکوں کو نشانہ بنایا گیا،پرتشدد ہجوم نے 414 سرکاری عمارتوں اور 749 پولیس اسٹیشنز تباہ کردئیے،دہشت گردانہ واقعات میں 120 بسیج مراکز، 200 اسکولوں اور 350 مساجد کو نشانہ بنایا گیا،دہشت گردانہ حملوں میں 15 لائبریریوں، 2 آرمینیائی گرجا گھروں اور 253 بس اسٹیشنوں کو تباہ کردیا گیا .

ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ دہشت گردانہ حملوں میں 600 اے ٹی ایمز اور 800 موٹر کاریں بھی تباہ کردی گئی ۔امریکہ مظاہروں کے دوران بھی ایران میں مداخلت چاہتا تھاتاہم اس وقت صیہونی وزیر اعظم نے بھی ایرانی حملوں کے سامنے کے لئے عدم تیاری کا اعلان کیا،اب بھی امریکہ نے اس خطے میں بھاری طاقت جمع کر لی ہے،امریکہ نے ایران کی جانب پیش قدمی اور ایران نے اس کا جواب دینے کے بیان دئیے ہیں۔ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ہماری مسلح افواج کے اپنے منصوبے ہیں اور وہ اپنا جواب دیں گی،چند ماہ قبل بھی جب ہم مذاکرات کر رہے تھے، مذاکرات کے وسط میں ہم پر حملہ کیا گیا،جب تک فریقین تیار نہ ہوں تب تک کوئی ثالث ان کو میز پر نہیں لا سکتا،ہم پاکستان سمیت کسی ملک سے اپنی حمایت میں جنگ میں کودنے کا مطالبہ نہیں کرتے،وہ اپنے فرائض ادا کرتے رہیں،حالیہ مظاہروں میں بہت سے شرپسندوں کو گرفتار کیا گیا .

ہم امریکی دھونس دھاندلی کو تسلیم نہیں کریں گے،ہمارے دوست جیسے ہمیں سپورٹ کرنا چاہیں کریں مگر ہم کسی کے پاس نہیں جائیں گے،ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم اپنا دفاع کریں گے،تمام ممالک جو ہم سے رابطے میں ہیں وہ جنگ روکنے کے لئے ہیں،ہم پاکستان کی ابھی تک حمایت اور جنگ روکنے کی کوششوں پر مشکور ہیں،ہم ان واقعات سے پہلے بھی پاکستان سے مشاورت میں تھے،ہماری رپورٹس کے مطابق بھارت اور افغان شہریوں کے اپنی حکومتوں کی پشت پناہی سے ایران مخالف شرپسندی میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے .

ایرانی انٹیلی جنس کو متعدد ممالک کا سامنا ہے،ہماری سیکیورٹی و انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ملک کے دفاع کے لیے اپنے منصوبے ہیں،ہم جنگ سے بچنے کی کوششیں کر رہے ہیں تاہم ان کوششوں کی کامیابی کا 50 فیصد ہمارے اور باقی فریق مخالف کے ہاتھ میں ہے،امید ہے کہ ابھی بھی جنگ نہیں ہوگی اگر مارکو روبیو نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایران اور وینزویلا میں فرق ہے تو یہ اچھی بات ہے،ہماری مہاجرین کی آمد کے حوالے سے پاکستان سے کوئی بات نہیں ہوئی۔