اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی ہدایت پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ملک بھر کی شاہراہوں کے دونوں اطراف تجارتی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے اور ریونیو میں اضافے کے لیے ’’رائٹ آف ویز ‘‘ کو آؤٹ سورس کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے، اس اقدام کا مقصد این ایچ اے کو مالی لحاظ سے خود کفیل ادارہ بنانا ہے تا کہ قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے،این ایچ اے کے حالیہ فیصلے کے تحت قومی شاہراہوں (N-5 سے N-80 تک) پر قائم ہوٹلز، پٹرول پمپس اور دیگر تجارتی مراکز سے این او سی فیس اور سالانہ کرایوں کی مد میں ہونے والی وصولیاں اب نجی شعبے کے سپردکر دی جائیں گی۔
اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ’’پیپرا رولز‘‘ کی مکمل پابندی کی جائے گی جب کہ این ایچ اے نے نجی شعبے کو اس عمل میں شامل کرنے کے لیے قومی اخبارات میں اشتہارات شائع کر دیے ہیں،تفصیلات کے مطابق اس منصوبے میں کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، ملتان، راولپنڈی اوروزیرآبادمیں رائٹ آف ویز کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا جبکہ حیدرآباد، لسبیلہ، بھکر، رحیم یار خان، بہاولپور، کوہاٹ، ایبٹ آباد، ڈی جی خان، بٹ خیلہ بھی اس منصوبے میں شامل ہیں۔300 ملین روپے سالانہ نیٹ مالیت رکھنے والی فرموں کے لیے یہ سرمایہ کاری کا سنہری موقع ہو گا۔
این ایچ اے ہیڈ کوارٹرز میں پری کوالیفائیڈ فرموں کی فنانشل بڈز 25 فروری 2026کو دن ساڑھے 11 بجے کھولی جائیں گی، اس حوالے سے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں شاہراہوں کے دونوں جانب رائٹ آف ویز کو آؤٹ سورس کرنے سے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری ہو گی جس سے ملک بھر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور نجی شعبے کو ترقی کے یکساں مواقع بھی میسر آئیں گے۔

