وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا چوتھی پاکستان کلائمٹ کانفرنس میں ماحولیاتی بحران پر اظہارِ خیال

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کراچی میں منعقدہ چوتھی پاکستان کلائمٹ کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے “قدرتی دہشت گردی” کی شکل اختیار کر چکی ہے انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان 3 تا 4 فیصد معاشی شرحِ نمو حاصل کر رہا ہے، تاہم بار بار آنے والے سیلاب باقاعدگی سے 7 تا 10 فیصد جی ڈی پی کو نقصان پہنچا دیتے ہیں۔ معاشی نقصانات کے علاوہ انہوں نے انسانی جانوں کے بھاری نقصان کی بھی نشاندہی کی، اور بتایا کہ حالیہ سیلابوں میں 6,000 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 40 ملین افراد بے گھر ہوئے، جن میں 20 ملین بچے شامل ہیں جو تعلیم سے محروم ہو گئے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے زور دیا کہ ماحولیاتی آفات پوری کی پوری نسلوں کو دوبارہ غربت میں دھکیل دیتی ہیں، جس سے جی ڈی پی، تعلیم اور سماجی استحکام شدید متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر ماحولیاتی غفلت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند ممالک کاربن کے اخراج کا بڑا حصہ پیدا کرتے ہیں، جبکہ اس کے نتائج ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ نام نہاد گرین فنانسنگ اکثر قرضوں کی صورت میں ہوتی ہے، اور پرانے قرضوں کی نئی شکل میں منظوری کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صحت اور تعلیم کے لیے مختص فنڈز کو تعمیرِ نو اور قرضوں کی ادائیگی کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔

ماحولیاتی موافقت (Adaptation) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ سیلابوں کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، تاہم بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ان کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے، جس میں قدرتی سیلابی راستوں کا تحفظ، مینگرووز، جنگلات، زیرِ زمین پانی کی ریچارج، اور صاف دریاؤں کی بحالی شامل ہے تین نکاتی حکمتِ عملی کا خاکہ پیش کرتے ہوئے موجودہ وسائل کی بحالی، موجودہ انفراسٹرکچر کی توسیع، اور نئے موسمیاتی مزاحم نظاموں کی تعمیر — ڈاکٹر مصدق ملک نے صنعتوں پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کی قیادت میں گرین اختراعات میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نوجوانوں کی جانب سے تیار کردہ ماحولیاتی حل اور ایک ورچوئل گرین یونیورسٹی عید کے بعد شروع کی جائے گی، جس کا مقصد پائیدار خیالات اور عملی اقدامات کو فروغ دینا ہے.