نادرا کی 97 فیصد قومی رجسٹریشن مکمل، بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل شناختی نظام میں نمایاں پیش رفت

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے جنوری 2026 کو ختم ہونے والے سال کی اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کر دی ہے، جس میں ملک بھر میں شہریوں کی رجسٹریشن اور ڈیجیٹل شناختی خدمات میں نمایاں پیش رفت ظاہر کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اب تک 227ملین شہری نادرا کے ساتھ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جس کے بعد ملک میں رجسٹریشن کی مجموعی شرح تقریباً 97 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رجسٹرڈ آبادی میں 48 فیصد خواتین اور 52 فیصد مرد شامل ہیں، جسے اتھارٹی نے رجسٹریشن کے نظام میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کا عکاس قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 31.9 ملین بچوں کی پیدائش یونین کونسلز میں درج کی جا چکی ہے، تاہم انہیں ابھی تک نادرا کے مرکزی نظام میں مکمل طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ اتھارٹی کے مطابق یہ مکمل قومی دستاویز بندی کے حصول کی جانب اگلا اہم مرحلہ ہے۔نادرا کا بائیومیٹرک ڈیٹا بیس تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔ اس وقت نظام میں170 ملین افراد کے چہروں کا ریکارڈ،7 ملین افراد کے آئرس اسکین اور تقری1.64 بلین فنگر پرنٹس موجود ہیں۔ صرف سال 2025 میں اتھارٹی نے 465 ملین بائیومیٹرک تصدیقات کیں، جنہیں شفافیت کے فروغ اور ڈیجیٹل طرز حکمرانی کی جانب حکومتی منتقلی میں اہم قرار دیا گیا ہے۔

رجسٹریشن کے نظام میں سال کے دوران مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ مجموعی قومی رجسٹریشن میں 4 فیصد اضافہ ہوا، 18 سال سے کم عمر بچوں کی رجسٹریشن میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ میعاد ختم ہونے والے شناختی کارڈز کی تجدید میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔ کارڈ ہولڈرز کے انتقال کے بعد شناختی کارڈز کی منسوخی میں 900 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ خواتین کی رجسٹریشن میں 8 فیصد اضافہ نادرا نے خوش آئند قرار دیا ہے۔عوامی رسائی بڑھانے کے لیے سال کے اختتام تک ملک بھر میں نادرا کے 938 رجسٹریشن مراکز فعال تھے۔ 75 نئے مراکز قائم کیے گئے جبکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے موجودہ دفاتر میں 138 نئے کاؤنٹرز اور مزید 126 اضافی کاؤنٹرز شامل کیے گئے۔

دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں تک رسائی کے لیے 231 موبائل رجسٹریشن وینز، جن میں 33 سیٹلائٹ یونٹس شامل ہیں، تعینات کی گئیں۔ اس کے علاوہ منی پیکس اور موٹر بائیک ٹیمیں یونین کونسل کی سطح پر خدمات فراہم کرتی رہیں، جہاں 62 کاؤنٹرز فعال رہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بھی سہولت میں اضافہ کیا گیا اور پانچ مختلف ممالک میں چھ نئے کاؤنٹرز قائم کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق نادرا نے اپنی 98 فیصد ٹرانزیکشنز کو کیش لیس نظام میں تبدیل کر دیا ہے اور قومی کال سینٹر کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے تاکہ عوامی سہولت میں اضافہ ہو۔

ڈیجیٹل منتقلی میں ایک اہم سنگ میل Pak Identity موبائل ایپ کی کارکردگی رہی، جس نے نادرا کے مجموعی کام کا 15 فیصد سنبھالا۔ اس ایپ کو 12ملین سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا، جس کے ذریعے لاکھوں شہریوں نے نادرا مرکز آئے بغیر گھر بیٹھے اپنی دستاویزات مکمل کیں۔سال 2025 میں وفاقی حکومت نے قومی رجسٹریشن اور بائیومیٹرک پالیسی فریم ورک کی منظوری دی، جس سے ایک مربوط قومی رجسٹریشن اور بائیومیٹرک نظام کی بنیاد رکھی گئی۔

جاری اصلاحات کے تحت نادرا نے تین سال کی عمر سے بائیومیٹرک چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کرنا شروع کیا اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی۔اگرچہ ملک بھر میں رجسٹریشن کی شرح تقریباً مکمل ہو چکی ہے تاہم رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں خواتین اور کم عمر بچوں کی رجسٹریشن میں اب بھی خلا موجود ہے۔

ان چیلنجز سے نمٹنے اور باقی ماندہ غیر رجسٹرڈ آبادی کی مکمل دستاویز بندی کے لیے نادرا نے مخصوص پالیسی اقدامات تجویز کیے ہیں۔وسیع ڈیجیٹل اپنانے، خدمات کے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک اور بہتر رسائی کے ساتھ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا قومی شناختی نظام اب مکمل کوریج کے قریب پہنچ چکا ہے، جو رجسٹریشن کے نظام کو جدید بنانے کی قومی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔