اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر)نیپرا کی حالیہ رپورٹ، جو ذرائع ابلاغ میں بھی شائع ہوئی، بجلی کے شعبے کی ایک تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے۔ ہم اتھارٹی کے نگرانی کے کردار کا احترام کرتے ہیں، تاہم پیش کردہ اعداد و شمار گزشتہ مالی سال کی زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے۔ جمود کا تاثر اس تاریخی بہتری کو نظر انداز کرتا ہے جو مالی سال 2025 کے دوران آپریشنل اور مالیاتی اشاریوں میں حاصل کی گئی، عوامی مباحثے کو حقائق پر مبنی بنانے کے لیے ہم مکمل تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں، جس میں گردشی قرضے میں تاریخی کمی اور ڈسکوز کی جانب سے حاصل کی گئی ٹھوس پیش رفت شامل ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مالی سال 2024-25 میں گردشی قرضہ 780 ارب روپے کم ہوا، جو مالی سال 2024 میں 2,393 ارب روپے سے کم ہو کر مالی سال 2025 میں 1,614 ارب روپے رہ گیا۔ یہ غیر معمولی کامیابی متعدد مربوط اقدامات کے باعث ممکن ہوئی، جن میں ڈسکوز کی بہتر کارکردگی (193 ارب روپے)، پاور پروڈیوسرز کے ساتھ ایل پی آئی ویور مذاکرات میں کامیابی (260 ارب روپے)، اور میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری (300 ارب روپے سے زائد) شامل ہیں۔ ڈسکوز کی بہتر کارکردگی سے حاصل ہونے والے 193 ارب روپے آپریشنل اور مالیاتی نظم و ضبط کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔
ناکارہ کارکردگی کے تاثر کے برعکس، ڈسکوز نے وصولیوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ وصولی کی شرح مالی سال 2024 میں 92.4 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 96.6 فیصد ہو گئی، جو 4.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہے۔ یہ بہتری نادہندگان کے خلاف سخت کارروائی اور بلنگ کے نظام میں بہتری کا نتیجہ ہے، اور یہی 193 ارب روپے کی بچت کا بنیادی سبب بنی، شعبے کی صحت کا سب سے اہم اشاریہ یعنی غیر وصول شدہ آمدن میں نمایاں کمی آئی۔ انڈر ریکوری کا مالی بوجھ 183 ارب روپے کم ہو کر مالی سال 2024 کے 315 ارب روپے سے گھٹ کر مالی سال 2025 میں 132 ارب روپے رہ گیا، جو 42 فیصد کمی ہے۔ اس پیش رفت نے گردشی قرضے میں اضافے کو نہ صرف سست کیا بلکہ اسے الٹنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن (T&D) نقصانات بھی ایک سال میں 18.3 فیصد سے کم ہو کر 17.6 فیصد رہ گئے۔ 0.7 فیصد پوائنٹس کی اس کمی سے نظام میں بہتری کے ذریعے 11 ارب روپے کی بچت ہوئی، یہ وضاحت ضروری ہے کہ موجودہ معاشی بنیادوں پر لوڈ شیڈنگ قومی بجلی پالیسی اور پلان کے مطابق ہے تاکہ شعبے کی مالی پائیداری یقینی بنائی جا سکے۔ اے ٹی اینڈ سی بنیادوں پر لوڈ شیڈنگ ختم کرنے سے سالانہ 500 ارب روپے سے زائد کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ حکومت اس تشویش سے آگاہ ہے اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کے تحت ٹرانسفارمر کی سطح پر ہدفی لوڈ شیڈنگ کی جانب پیش رفت جاری ہے۔
اگرچہ پرانے مسائل اب بھی موجود ہیں، مگر اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ ریکارڈ وصولیاں، انڈر ریکوری میں 42 فیصد کمی، ٹی اینڈ ڈی نقصانات میں کمی اور گردشی قرضے میں تاریخی 780 ارب روپے کی کمی اس بات کا ثبوت ہیں کہ اصلاحات درست سمت میں گامزن ہیں، ہم نیپرا، پالیسی سازوں اور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ ان تصدیق شدہ کامیابیوں کو تسلیم کرتے ہوئے بجلی کے شعبے کی بحالی کے سفر کو مثبت تناظر میں دیکھیں۔

