دبئی (ویب ڈیسک) ایران کی جانب سے عرب ملکوں پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کروانے کے بعد دوبارہ حملے کرنے کی دھمکی دیئے جانے کے بعد کشیدگی پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب نے اپنے دفاع کے لئے ایران کو سخت جوابی کارروائی کی وارننگ دی، متحدہ عرب امارات کے صدر اور قطر کے امیر کی طرف سے ایسے ہی ارادے ظاہر کئے گئے کہ اب ایران سے حملہ ہوا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ آج میڈیا میں سامنے آ چکی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے ایران سے مزید کوئی حملہ ہونے کی صورت میں ایران پر جوابی حملہ کرنے کی وارننگ دے دی ہے۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ مملکت پر حملے جاری رہے توجواب بھی دیا جائے گا۔
سعودی عرب نے ایران کے مسلسل میزائل حملوں کا نشانہ بننے کے بعد پہلی بار ایران کو جوابی ایکشن کی وارننگ دی ہے۔ انگلینڈ کی انٹرنیشنل نیوز ایجنسی نےبتایا کہ سعودی عرب نے ایران کو خبردار کیا ہےکہ اگر اب سعودیہ پر حملے ہوئےتو سعودیہ امریکی افواج کو ایران کےخلاف اڈے استعمال کرنےکی اجازت دےسکتا ہے۔ خلیجی ممالک نے ایران پر حملوں کے لیے امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اب تک اجازت نہین دی لیکن ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد پہلا جواب ہی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین کو میزائلوں کے حملے کر کے دیا۔ ایران کے میزائل حملوں سے صرف کویت میں امریکہ کی فوج کے 6 اہلکار مارے گئے، باقی تمام نقصانات ان حملوں کا نشانہ بننے والے عرب ممالک کے ہوئے۔ متحدہ عرب امارات میں ایران کے پہلے ہی حملے میں ایک پاکستانی محنت کش مارا گیا۔ ایران کی طرف سے عرب ممالک پر ڈرون حملے بھی تلسل کے ساتھ کئے گئے۔ سعودی عرب سے پہلے متحد ہ عرب امارات کے صدر نے بھی کل پہلی مرتبہ ایران کے حملوں پر ردعمل ظاہر کیا اور ایران کو متنبہ کیا کہ متحدہ عرب امارات آسان شکار نہیں ہے۔ محمد بن زاید النہیان نے مزید کہا کہ یو اے ای کیقوم حالت جنگ میں ہے، ہم اپنے ملک، عوام اور ہمارے خاندان کا حصہ ہمارے رہائشیوں کے لیے اپنا فرض ادا کریں گے۔ اپنےملک کیلئےفرض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں ہوگی۔
کل ہی متحدہ عرب امارات کے صدر نے امیرِ قطر کے ساتھ فون پر بات کی جس میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، علاقائی سلامتی اور استحکام پر تبادلہ خیال ہوا شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور شیخ تمیم بن حمد الثانی نے دونوں ریاستوں کی سلامتی اور استحکام کیلئے مربوط سفارتی روابط اور علاقائی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیاگیا ،امیرقطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نےبھی امریکی صدر سے رابطہ کیا،واضح کیاملکی سلامتی کےتحفظ کیلئےضروری قدم اٹھانے سے نہیں ہچکچائیں گے ، آج ایک بار پھر ایران کے صدر نے ضد کی ہے کہ ایران پڑوسی عرب ممالک کو نہیں بلکہ ان ملکوں کے اندر امریکی مفادات پر حملے کر رہا ۔ ہمارا ان ملکوں سے مطالبہ ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں۔ ایران کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین پر میزائلوں کے بار بار حملوں پر ان ممالک نے ایران سے سخت احتجاج کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ وہ اپنے دفاع کا حق رکھتے ہیں۔ بعد میں کئی اطراف سے ہوئی سفارتی کوششوں کے بعد ایران نے یقین دلایا کہ وہ عرب ملکوں پر مزید حملے نہیں کرے گا۔
کل ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں مسعود پیزشکیان نے یقین دلایا کہ اب ایران کی طرف سے پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے۔ اس بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہونے والے حملوں پر پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہیں،ہمارا دوسرے ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ عبوری لیڈر شپ کونسل نے پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملہ نہ کرنےکی منظوری دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے، جب تک ان ممالک کی سرزمین سے ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔
صدر مسعود پیزشکیان کے معذرت کرنے کے بعد بھی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین پر کل ہی ایران سے نئے حملے کئے گئے۔ ان حملوں کی کل کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی لیکن آج ایران نے اپنی حملے نہ کرنے کی یقین دہانی سے دستبرداری اختیار کر لی۔ آج ایران کے صدر نے دوبارہ پرانی پوزیشن اختیار کر لی اور کہا کہ ہمارے حملے عرب ملکوں میں امریکہ کے مفادات پر ہوں گے۔

