پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 روپے تک کمی کا اعلان

لگژری گاڑیوں کے لیے ہائی آکٹین مہنگا، لیوی 300 روپے فی لیٹر مقرر ، 9 ارب روپے ماہانہ بچت ہو گی. وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی حکومت نے ملک میں پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کر لیا جس کے بعد وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے اہم اجلاس کیا اجلاس میں ملک میں لگزری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے پٹرول کی قیمت میں لیوی ٹیکس 300 روپے تک عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق ائندہ چند روز میں ہوگا اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں امیر شخصیات کے زیر استعمال ہونے والی لگژری گاڑیوں میں ہائی اکٹین استعمال کیا جاتا ہے .

وزیراعظم نے ہائی اکٹین پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد انہوں نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وڈیو لنک اجلاس میں امیر ترین طبقے کے زیر استعمال پر تعیش (لگژری) گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول کے حوالےسے اہم فیصلہ کر لیا اس سلسلے میں ،وزیراعظم نے نوٹس لیا کہ مہنگی ترین گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر لیوی بڑھنی چاہیے ،وزیراعظم نے امیر ترین طبقے کے زیر استعمال پر تعیش (لگژری) گاڑیوں پر موجودہ لیوی جو کہ 100 روپے فی لیٹر ہے، اس میں 200 روپے مزید فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کر دیا.

مہنگی ترین گاڑیوں میں ڈلنے والے ہائی آکٹین فیول پر اب سے 300 روپے فی لیٹر لیوی کا اطلاق ہو گا، اس فیصلے سے حکومت کو 9 ارب روپے ماہانہ بچت ہو گی اور وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق عوام کو اس بچت سے ریلیف دیا جائے گا، اس فیصلے سے معیشت پر بوجھ کم ہو گا، ملک کا امیر ترین طبقہ بوجھ اٹھائے گا،جہاں نچلے اور درمیانے طبقے کے زیر استعمال عام گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئی وہیں صرف لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول کی قیمت بڑھائی گئی ہے.

اس فیصلے سے پبلک ٹرانسپورٹ اور ہوائی جہازوں کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ،ہائی آکٹین کی قیمتوں کے حوالے سے وزیراعظم نے نوٹس لیا تھا اور متعلقہ وزارت کو اس حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی تھی،اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔