پی آئی اے کی نجکاری قومی اثاثوں کی فروخت ہے، چوہدری منظور کا وائٹ پیپر جاری

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پیپلز لیبر بیورو پاکستان کے انچارج و رہنماء پاکستان پیپلز پارٹی چوہدری منظور احمد نے پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ہوشربا حقائق پر بنی وائٹ پیپر ” جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اثاثوں کی کوڑیوں کے دام فروخت کسی صورت قبول نہیں، پی آئی اے نجکاری کے نام پر اربوں روپے کا ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے،پی آئی اے کے کل اثاثوں کی مالیت 288.187 ارب روپے ہے، جبکہ اسے صرف 10 ارب روپے میں بیچا جا رہا ہے،ایئر لائن کے صرف 11 رئیل اسٹیٹ اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو 33 ارب روپے ہے، جو کہ فروخت کی قیمت سے تین گنا زیادہ ہے، لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ کے محض ایک سلاٹ کا سالانہ کرایہ 10 ارب روپے تک ہو سکتا ہے، جو پوری ایئر لائن کی مجوزہ قیمت کے برابر ہے،پی آئی اے کے پاس 170 سے زائد بین الاقوامی سلائس اور 30 سے زیادہ بین الاقوامی منافع بخش روٹس موجود ہیں،حکومت پنجاب نے حال ہی میں ایک چھوٹا طیارہ 10 ارب روپے میں خریدا .

جبکہ اسی قیمت میں پی آئی اے کے 18 فعال طیارے 7 ہینگرز اور عالمی نیٹ ورک بیچا جا رہا ہے،پیپلز لیبر بیورو اور محنت کش طبقہ اس لوٹ مار کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت کرے گا اور عوام کی عدالت میں ان چہروں کو بے نقاب کرے گا جو قومی ایئر لائن کو کوڑیوں کے دام بیچنے کے ذمہ دار ہیں،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پیپلز یونٹی آف پی آئی اے ایمپلائز (سی بی اے) کے مرکزی صدرہدایت اللہ خان، صدر اسلام آبادرمضان لغاری،جنرل سیکرٹری سہیل مختار،سینئر نائب صدر شعیب یوسفزئی، آرگنائزنگ سیکرٹری محمد اقبال و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز لیبر بیورو پاکستان کے انچارج و رہنماء پاکستان پیپلز پارٹی چوہدری منظور احمد کا پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق پیپلز یونٹی آف پی آئی اے (CBA) کے تعاون سے تیار کردہ ایک جامع وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئےمزید کہنا تھا کہ 26 ارب روپے سالانہ منافع کمانے والے ادارے کی 10 ارب میں فروخت ملک دشمنی ہے، وائٹ پیپر میں پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی ڈاکہ قرار دیا گیا ہے، وائٹ پیپر میں پیش کیے گئے مصدقہ اعداد وشمار اور قانونی دلائل نے نجکاری کے حکومتی بیانیے کے پرکھچے اڑا دئیے ہیں،مالیاتی تضادات اور حقائق کا انکشافوائٹ پیپر کے مطابق پی آئی اے نے سال 2024 میں اپنے آپریشنز سے 26 ارب روپے کا خالص منافع کمایا اور 3 17.ارب روپے کا آپریٹنگ کیش فلو پیدا کیا ، اس کے باوجود اسے محض 10 ارب روپے کی معمولی رقم کے عوض نجی ہاتھوں میں تھمایا جا رہا ہے،چوہدری منظور احمد نے سوال اٹھایا کہ جو ادارہ اپنی قیمت سے ڈھائی گنا زیادہ سالانہ منافع دے رہا ہو، اسے فروخت کرنے کا منطقی جواز کیا ہے؟.

وائٹ پیپر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی آئی اے کے کل اثاثوں کی مالیت 288.187رب روپے ہے، جبکہ اسے صرف 10 ارب روپے میں بیچا جا رہا ہے۔ایئر لائن کے صرف 11 رئیل اسٹیٹ اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو 33 ارب روپے ہے، جو کہ فروخت کی قیمت سے تین گنا زیادہ ہے۔ لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ کے محض ایک سلاٹ کا سالانہ کرایہ 10 ارب روپے تک ہو سکتا ہے، جو پوری ایئر لائن کی مجوزہ قیمت کے برابر ہے۔ پی آئی اے کے پاس 170 سے زائد بین الاقوامی سلائس اور 30 سے زیادہ بین الاقوامی منافع بخش روٹس موجود ہیں۔حکومت پنجاب نے حال ہی میں ایک چھوٹا طیارہ 10 ارب روپے میں خریدا، جبکہ اسی قیمت میں پی آئی اے کے 18 فعال طیارے 7 ہینگرز اور عالمی نیٹ ورک بیچا جا رہا ہے۔چوہدری منظور احمد نے وائٹ پیپر کے حوالے سے مزید بتایا کہ یہ نجکاری آئین کے آرٹیکل 154 کی صریح خلاف ورزی ہے کیونکہ اس کے لیے مشترکہ مفادات کونسل (CCI) سے منظوری حاصل نہیں کی گئی ۔ مزید برآں PIACL کنورژن ایکٹ 2016 کی میعاد 30 جون 2025 کو ختم ہونے کے بعد موجودہ ریسٹرکچرنگ کا عمل قانونی طور پر کالعدم ہو چکا ہے۔ حکومت پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے غیر قانونی طور پر حصص کی منتقلی کر رہی ہے .

وائٹ پیپر میں متنبہ کیا گیا ہے کہ نجکاری کے بعد نجی اجارہ داریاں قائم ہوں گی جس سے عوامی کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا۔ پی آئی اے اس وقت اسکردو ، گلگت اور گوادر جیسے دور افتادہ علاقوں کے لیے لائف لائن ہے جہاں نجی ایئر لائنز کام نہیں کرتیں نجکاری سے ان علاقوں کا رابطہ ملک سے کٹ جائے گا ۔ ” اوپن اسکائی ” پالیسی کے تحت غیر ملکی ایئر لائنز کو نواز کر پی آئی اے کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا تاکہ اسے سستے داموں بیچا جا سکے،پیپلز لیبر بیورو نے مطالبہ کیا ہے کہ پی آئی اے کی مکمل نجکاری کے بجائے اسٹاک ایکسچینج (IPO) کے ذریعے 20 سے 30 فیصد حصص کی فروخت کی جائے تاکہ شفافیت اور قومی کنٹرول بھی برقرار رہے .

نجکاری سے قبل کسی آزاد بین الاقوامی ادارے سے پی آئی اے کے اثاثوں کی حقیقی قدر (Intrinsic Valuation) متعین کرائی جائے، ایگزیکٹوز کی مراعات میں کمی اور پیشہ ورانہ انتظام کے ذریعے ادارے کو مزید منافع بخش بنایا جائے،چوہدری منظور احمد نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وائٹ پیپر میں موجود حقائق ثابت کرتے ہیں کہ یہ نجکاری نہیں بلکہ قومی اثاثوں کی سیل لگی ہوئی ہے۔ پیپلز لیبر بیورو اور محنت کش طبقہ اس لوٹ مار کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت کرے گا اور عوام کی عدالت میں ان چہروں کو بے نقاب کرے گا جو قومی ایئر لائن کو کوڑیوں کے دام بیچنے کے ذمہ دار ہیں۔