اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) پاکستان اور تاجکستان نے دوطرفہ تجارت کو آئندہ تین برسوں میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے, اس کے علاوہ توانائی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، یہ اتفاق تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں منعقد ہونے والے پاکستان-تاجکستان مشترکہ وزارتی کمیشن (جوائنٹ کمیشن) کے آٹھویں اجلاس میں کیا گیا، جو 2 اور 3 جون کو منعقد ہوا۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت تاجکستان کے وزیر توانائی و آبی وسائل جمعہ دالر شوفاقر اور پاکستان کے وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری نے کی ، اجلاس میں پاکستان میں تعینات تاجکستان کے سفیر شریف زادہ یوسف توئر اور تاجکستان میں پاکستان کے سفیر عرفان احمد بھی شریک ہوئے، پاکستانی وفد میں اقتصادی امور ڈویژن، وزارت تجارت، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزارت قومی صحت، وزارت صنعت و پیداوار، پاور ڈویژن، پیٹرولیم ڈویژن، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور بین الصوبائی رابطہ وزارت کے سینئر حکام شامل تھے۔
دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کاروباری اداروں کے درمیان روابط، تجارتی نمائشوں میں شرکت، تجارتی معلومات کے تبادلے اور چیمبرز آف کامرس کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، فریقین نے تجارتی وفود کے تبادلوں، بزنس ٹو بزنس (B2B) ملاقاتوں اور آن لائن کاروباری روابط کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا تاکہ نئی تجارتی مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
اجلاس کا ایک اہم نتیجہ یہ تھا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی حجم کو 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے لیے تین سالہ روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا ، دونوں ممالک نے تاجکستان کی ایکسپورٹ ایجنسی اور پاکستان کی ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (TDAP) کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) کی تکمیل کا خیرمقدم کیا۔
ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جسے دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا اور اس کی جلد تکمیل کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، توانائی کے شعبے میں پاکستان اور تاجکستان نے علاقائی بجلی ترسیلی منصوبے CASA-1000 پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور باقی ماندہ کام بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دونوں ممالک نے جون 2026 میں استنبول میں ہونے والے CASA-1000 جوائنٹ ورکنگ گروپ اجلاس میں شرکت کی بھی توثیق کی ،تاجک وزارت توانائی و آبی وسائل نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) کے ساتھ تاجکستان میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبے میں ممکنہ سرمایہ کاری کے حوالے سے تعاون پر بھی اتفاق کیا۔ تاجکستان نے پاکستانی ماہرین کو تکنیکی اور تجارتی معلومات تک رسائی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
دونوں ممالک نے فارماسیوٹیکل، طبی سامان، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ہلکی صنعتوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، فارماسیوٹیکل مصنوعات، جوتوں کی تیاری، مصنوعی چمڑے کی پروسیسنگ اور کیمیائی مصنوعات کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے قیام کے امکانات پر بھی غور کیا گیا ،پاکستان نے آئی ٹی کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے تاجک ماہرین کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل مواد کی تیاری کی خصوصی تربیت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔
زراعت کے شعبے میں دونوں ممالک نے زرعی مصنوعات کی تجارت بڑھانے اور کپاس، گندم، آلو اور سبزیوں سمیت زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کی اقسام کے تبادلے اور آزمائش میں تعاون پر اتفاق کیا، اس کے علاوہ 2026 تا 2028 زرعی تعاون کے روڈ میپ کو حتمی شکل دینے اور نباتاتی و ویٹرنری خدمات میں تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
صحت کے شعبے میں دوا سازی، طبی آلات، جراحی آلات کی تیاری اور تاجکستان میں طبی سامان کی پیداواری سہولیات کے قیام کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا ، اجلاس میں اعلیٰ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تاجکستان نے تاجکستان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) اسلام آباد کے درمیان انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرکیٹیکچر کے شعبوں میں تعاون کی تجویز پیش کی۔
دونوں ممالک نے آبی وسائل، پن بجلی، ماحولیات اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق، سائنسی معلومات کے تبادلے اور جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ پر بھی اتفاق کیا ، ثقافتی تبادلوں، سیاحت، نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے شعبوں میں تعاون بھی اجلاس کے اہم نکات میں شامل رہا، فریقین نے پامیر، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی علاقوں میں ایڈونچر اور ماؤنٹین ٹورازم کے فروغ اور تاریخی شاہراہِ ریشم کے ثقافتی ورثے کو پائیدار سیاحتی منصوبوں کے ذریعے اجاگر کرنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں وفود نے مذاکرات کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات اور کثیرالجہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، پاکستان نے تاجکستانی حکومت کی جانب سے مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا جبکہ تاجکستان نے پاکستان کے مثبت کردار اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے عزم کو سراہا۔

